امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے آغاز پر فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کمیونزم کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی اقدار اور آئین کے خلاف کسی نظریے کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
یومِ آزادی سے ایک روز قبل ماؤنٹ رشمور میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے دنیا کی سب سے طاقتور فوج بنائی، دو عالمی جنگیں جیتیں اور سرد جنگ میں اپنے مخالفین کو شکست دی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے “وینزویلا کو ایک ہی دن میں شکست دی” اور “ایران کو سخت نقصان پہنچایا۔” تاہم انہوں نے ان دعوؤں کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔
ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ہونے والی سرکاری سوگ کی تقریبات کے لیے “ایک ہفتے کی مہلت” دی۔
اپنی تقریر کا بڑا حصہ صدر ٹرمپ نے اندرونِ ملک سیاسی معاملات پر صرف کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں “کمیونسٹ خطرہ” دوبارہ سر اٹھا رہا ہے اور بعض نئے آنے والے تارکینِ وطن ایسے نظریات رکھتے ہیں جو امریکی طرزِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔
صدر ٹرمپ نے کمیونزم کو آئینِ امریکا کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام اس نظریے کو جلد شکست دیں گے۔ انہوں نے اس بیان کو اپنی سخت امیگریشن پالیسی سے بھی جوڑا اور کہا کہ بعض بائیں بازو کے سیاست دانوں اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے ڈیموکریٹک سوشلسٹ سیاست دانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو امریکا کے قیام کے بعد سے ملک کے لیے “سب سے بڑا خطرہ” قرار دیا اور اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ امریکا کی 250ویں سالگرہ “امریکا کے سنہری دور کا آغاز” ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق صدر براک اوباما کی انتخابی مہم سے وابستہ رہنے والی سیاسی تجزیہ کار ایمیشیا کراس نے کہا کہ صدر ٹرمپ ملک کی متنوع تاریخ کو نظر انداز کر رہے ہیں اور نئی نسل کے ترقی پسند رہنماؤں کی مقبولیت سے پریشان ہیں۔
ادھر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ تارکینِ وطن نے امریکا کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اختلافِ رائے بھی امریکی جمہوری روایت کا حصہ ہے۔
امریکا کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک کے مستقبل اور قومی شناخت کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔