پاکستان بھر میں آج یومِ عاشور نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی میدانِ کربلا میں عظیم قربانی کی یاد میں ماتمی جلوس اور مجالسِ عزا منعقد کی جا رہی ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔
کراچی میں مرکزی جلوس صبح تقریباً ساڑھے نو بجے نشتر پارک سے روانہ ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر اختتام پذیر ہوگا۔ سکیورٹی کے پیش نظر جلوس کے راستے پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل رکھی گئی ہے۔ کراچی پولیس کے مطابق مرکزی جلوس کی حفاظت پر ساڑھے 6 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جبکہ شہر بھر میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ ایم اے جناح روڈ گرو مندر سے ٹاور تک ٹریفک کے لیے بند ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک ماتمی جلوس میں شرکت کے دوران بتایا کہ صوبے بھر میں 60 ہزار پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ محرم کے دوران سندھ میں 1600 سے زائد جلوس نکالے جا رہے ہیں۔
حیدرآباد میں مرکزی جلوس قدم گاہ مولا علی سے روانہ ہوا، جو کربلا دادن شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔
پشاور میں عاشورہ کے موقع پر بارہ جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ پہلا جلوس مینا بازار کے قریب امام بارگاہ آغا سید علی شاہ سے روانہ ہوا، جبکہ دیگر جلوس مختلف اوقات میں شہر کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوں گے۔ پولیس نے شہر میں بارہ ہزار اہلکار تعینات کیے ہیں، جن میں ریپڈ رسپانس فورس، کوئیک رسپانس فورس، لیڈیز پولیس، ٹریفک پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ شامل ہیں۔ جلوسوں کو تین حصوں پر مشتمل سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، بلند عمارتوں پر نشانہ باز تعینات ہیں، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کے ذریعے امام بارگاہوں اور جلوسوں کے راستوں کی مکمل تلاشی لی گئی ہے۔ شہر بھر میں 1 ہزار ٹریفک اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 43 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی پر مامور ہیں۔ صوبے کی 614امام بارگاہوں میں سے 127کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 907جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ مختلف اضلاع میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے اور تمام جلوسوں کی نگرانی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں عاشورہ کا کوئی مرکزی جلوس نہیں نکالا جا رہا، تاہم راولپنڈی میں مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین، ٹیلی محلہ سے برآمد ہو کر امام بارگاہ قدیمی پر اختتام پذیر ہوگا۔ راولپنڈی میں سکیورٹی کے لیے پاک فوج کی 5 اور رینجرز کی 7 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ 8 ہزار سے زائد پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ حساس اداروں کی سفارش پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میٹرو بس سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے کیونکہ جلوس مری روڈ سے گزرے گا۔ شہر میں دو جدید ویڈیو مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں، 2 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی جاری ہے، داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جبکہ شرکا کی مکمل تلاشی کے بعد ہی جلوس میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ پولیس نے شناختی کارڈ کی جانچ کے لیے خصوصی موبائل ایپ بھی متعارف کرائی ہے۔ ضلع راولپنڈی میں محرم کے دوران چار سو پچھتر جلوس اور 2 ہزار 201 مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔
پنجاب بھر میں تین درجوں پر مشتمل سکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت 1 لاکھ 25 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں، جبکہ پاک فوج کی 61 اور رینجرز کی 76 کمپنیاں بھی معاونت کر رہی ہیں۔ 30 ہزار سے زائد تربیت یافتہ رضاکار بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر رہے ہیں۔ نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام، سی سی ٹی وی کیمرے، باڈی کیمرے اور جیو ٹیگڈ ویڈیو مانیٹرنگ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ 5 ہزار 600 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے اور 1 ہزار سے زیادہ جدید کیمرے حساس مقامات پر نصب کیے گئے ہیں۔ ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، موبائل طبی یونٹس، فیلڈ اسپتال اور صفائی کا عملہ بھی جلوسوں کے راستوں پر موجود ہے۔ پنجاب کے چوبیس اضلاع میں مذہبی اجتماعات کے مقامات پر رات دس بجے تک موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رکھی گئی ہے۔
بلوچستان میں بھی عاشورہ کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں 32 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، جن میں صرف کوئٹہ میں 17 ہزار سے زیادہ اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ مرکزی جلوس کے راستوں کی فضائی نگرانی، سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ جلوس کے راستوں پر واقع تمام بازار، مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ کوئٹہ اور دیگر حساس علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل رکھی گئی ہے۔