چین نے بنگلہ دیش، میانمار اور چین کو ملانے والی ایک نئی اقتصادی راہداری قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد خطے میں رابطوں، تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یہ تجویز بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپلز میں ہونے والی ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے درمیان زیرِ بحث آئی۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق ملاقات میں چین، میانمار اور بنگلہ دیش اقتصادی راہداری کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاقِ رائے پایا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد چین کے صوبہ یونان کو میانمار اور بنگلہ دیش سے جوڑ کر تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کو فروغ دینا ہے۔
بنگلادیشی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان مہدی امین نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
مہدی امین کے مطابق ملاقات میں اس بات پر گفتگو ہوئی کہ بنگلہ دیش، میانمار اور چین کو ملانے والی اقتصادی راہداری کس طرح قائم کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد بنگلہ دیش کی معیشت کو وسعت دینا، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا اور پورے خطے میں مختلف ذرائع پر مشتمل نقل و حمل کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ اقتصادی راہداری سے علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی روابط کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ وزیراعظم طارق رحمان کے دورۂ چین کے دوران مجموعی طور پر 17 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں سے 13 مفاہمتی یادداشتیں وزیراعظم طارق رحمان اور چینی وزیراعظم لی چیانگ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد طے پائیں، جبکہ تین یادداشتیں بنگلہ دیشی سرمایہ کاری ترقیاتی ادارے اور چینی کاروباری تنظیموں کے درمیان دستخط کی گئیں۔
اس کے علاوہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے درمیان بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔