وینزویلا میں بدھ کی شام آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
ملک کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد آیا جس کی شدت 7.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف ایک منٹ بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ محسوس کیا گیا۔

زلزلوں کے باعث متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لوگ خوف کے عالم میں گھروں اور دفاتر سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ دارالحکومت کاراکاس سمیت ملک کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
قائم مقام صدر نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بتایا کہ ساحلی ریاست لا گوائرا سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں درجنوں عمارتیں گر گئی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق کئی افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

زلزلوں کے باعث کاراکاس کے قریب واقع سیمون بولیوار بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ میٹرو اور گیس کی خدمات بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے تعلیمی ادارے بھی چند روز کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ فوری طور پر امدادی اور ریسکیو ٹیمیں وینزویلا بھیج رہا ہے۔ اس کے علاوہ ارجنٹینا، برازیل، میکسیکو، ایکواڈور، ایل سلواڈور اور دیگر ممالک نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے برازیل اور کولمبیا کے بعض علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق یہ وینزویلا میں ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
