ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ دفترِ خارجہ پاکستان کے مطابق ایرانی صدر وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان آ رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایرانی صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہو گا، جس میں وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔
دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ باضابطہ بات چیت ہو گی۔ دفترِ خارجہ کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق، نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ ڈاکٹر پزشکیان کا بطور ایرانی صدر پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور تجارت، توانائی، سرحدی سکیورٹی، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے نئے امکانات پر بات کریں گے۔
بیان کے مطابق یہ دورہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری سفارتی رابطوں اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر بات چیت کا اہم موقع بھی ہو گا۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ایران کے تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پیش رفت سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ان مذاکرات کے تحت مزید تکنیکی بات چیت، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور لبنان میں کشیدگی روکنے کے لیے رابطہ کاری کے طریقہ کار پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔