وفاقی بجٹ اور حکیم کا نسخہ

شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا حکیم بیٹھا تھا۔ اس کی دکان پر ہر سال ایک ہی مریض آتا تھا۔جسکی بیماری ہر آئندہ سال بڑھتی جا رہی تھی، امسال بھی چہرہ زرد، مرتا احساس، کندھے جھکے ہوئے اور آنکھوں میں امید کی مدھم سی چمک تھی۔ حکیم حسبِ معمول نبض دیکھتا، چند لمحے خاموش رہتا اور پھر بڑے اطمینان سے کہتا! اس بار علاج پہلے سے بہتر ہو گا، بس چند دن کڑوی دوا اور تکلیف برداشت کرنا ہوگی۔اس نے نسخہ لکھا۔ اس میں دوائیں کم اور ہدایات زیادہ تھیں۔ روٹی آدھی کر دو، ٹھنڈی جگہ بیٹھنے کے بجائے گرم جگہ بیٹھو تاکہ پسینہ آئے، سواری کا استعمال کرنے کے بجائے پاؤں پاؤں چلو، خواہشیں کم سے کم رکھو، کھانا بے شک نہ۔کھاؤ، دوا ضرور کھاؤ اور زیادہ سے زیادہ صبر کرو۔

مریض نے لرزتے ہاتھوں سے نسخہ لیا اور پوچھا، حکیم صاحب! کیا اس بار واقعی صحت بہتر ہو جائے گی؟حکیم نے مسکرا کر جواب دیا!صحت کا تو وقت بتائے گا، لیکن حساب کی کتاب پہلے سے زیادہ خوبصورت ضرور نظر آئے گی۔

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 بھی کچھ ایسا ہی نسخہ محسوس ہوتا ہے۔ سرکاری دستاویزات میں اعداد و شمار متوازن، اہداف بلند اور دعوے پرکشش ہیں، لیکن بازار کی گلیوں، صنعتی علاقوں، کسان کی زمین اور تنخواہ دار طبقے کے گھروں میں جا کر محسوس ہوتا ہے کہ معاشی رپورٹ اور عوامی زندگی دو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔وفاقی بجٹ کسی بھی ریاست کی ترجیحات کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ صرف آمدن اور اخراجات کا حساب نہیں بلکہ یہ طے کرتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان قرضوں، مہنگائی، توانائی کے بحران، بے روزگاری اور محدود سرمایہ کاری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے، بجٹ 2026-27 کو ایک مشکل معاشی امتحان کہا جا سکتا ہے۔اس سال بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 18.77 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔ حکومت نے اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد اور افراطِ زر کو تقریباً 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایف بی آر کے لیے 15.264 ٹریلین روپے محصولات جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دفاع کے لیے تقریباً 3 ٹریلین روپے رکھے گئے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔لیکن بجٹ کی سب سے بڑی حقیقت ایک اور ہے۔ 8.054 ٹریلین روپے صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں، ہر سو روپے میں تقریباً تینتالیس روپے ماضی کے قرضوں کی قیمت چکانے پر صرف ہوں گے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو بتاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت ابھی تک اپنے مستقبل سے زیادہ اپنے ماضی کی قسطیں ادا کر رہی ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ مالی نظم و ضبط، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور غیر دستاویزی معیشت کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے سے محصولات میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور معیشت پائیدار بنیادوں پر استوار ہوگی۔ اگر یہ اصلاحات واقعی عملی شکل اختیار کر لیں تو پاکستان کی معیشت ایک نئے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے یہ وعدے پہلے کبھی نہیں سنے؟

ہر سال ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات ہوتی ہے، مگر بوجھ زیادہ تر انہی لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ہر سال سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان ہوتا ہے، مگر صنعت کار توانائی کی قیمتوں، پالیسی کے عدم تسلسل اور بلند پیداواری لاگت کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر سال برآمدات میں اضافے کی امید دلائی جاتی ہے، لیکن درآمدی انحصار اور ڈالر کی قیمت صنعتی شعبے کو مسلسل دباؤ میں رکھتی ہے۔عام شہری کے لیے بجٹ کی اصل تشریح بجٹ تقریر نہیں بلکہ بازار کی قیمتیں ہوتی ہیں۔ اگر بجلی، گیس، ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جائیں تو تنخواہوں میں معمولی اضافہ چند ماہ میں اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔متوسط طبقہ جو پہلے ہی مہنگائی، بچوں کی تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات کے درمیان پسا ہوا ہے، اس کے لیے بجٹ کی کامیابی کا معیار معاشی اشاریے نہیں بلکہ ماہانہ راشن کا بل ہے۔اس بجٹ کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت مالی خسارہ کم کرنے، محصولات بڑھانے اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ٹیکس اصلاحات شفاف انداز میں نافذ ہوں، زراعت، صنعت اور آئی ٹی کے شعبوں کو حقیقی سہولتیں دی جائیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان قرضے فراہم کیے جائیں اور برآمدات کو فروغ دیا جائے تو یہی بجٹ معاشی بحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اصلاحات صرف فائلوں تک محدود رہیں، اگر ٹیکس وصولی کا مطلب صرف نئے لیویز اور بالواسطہ ٹیکس ہوں، اگر سرمایہ کار اب بھی غیر یقینی پالیسیوں کا شکار رہے اور اگر عام آدمی کی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہی تو پھر یہ بجٹ بھی گزشتہ کئی بجٹوں کی طرح ایک خوبصورت دستاویز تو ہوگا مگر ایک مضبوط معیشت نہیں بنا سکے گا۔

معاشیات کے ماہرین اکثر کہتے ہیں کہ کسی ملک کی اصل طاقت اس کے خزانے میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب عوام یہ محسوس کریں کہ ان سے وصول کیا گیا ہر روپیہ تعلیم، صحت، انصاف، انفراسٹرکچر اور روزگار پر خرچ ہو رہا ہے تو وہ ٹیکس کو بوجھ نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ لیکن جب انہیں اپنی زندگی میں بہتری نظر نہ آئے تو اعداد و شمار کی خوبصورتی بھی اعتماد بحال نہیں کر پاتی۔

کہتے ہیں چند ماہ بعد وہی مریض دوبارہ حکیم کے پاس آیا۔ اس بار اس کا وزن پہلے سے کم، احساس مزید جاتا رہا اور ہاتھ میں گزشتہ دس برسوں کے پرانے نسخے تھے۔حکیم نے خوش ہو کر کہا !مبارک ہو! دیکھو، تمہارا بوجھ کتنا کم ہو گیا ہے۔مریض نے آہستہ سے جواب دیا!حکیم صاحب! بوجھ تو واقعی کم ہو گیا ہے، مگر بیماری کا نہیں، بلکہ جیب کا۔یہی ہمارے معاشی سفر کی کہانی بھی ہے۔ ہر سال ایک نیا بجٹ، نئے وعدے، نئے اہداف اور نئے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔ ہر سال بتایا جاتا ہے کہ یہ وقتی قربانی ہے اور مستقبل روشن ہوگا۔ عوام بھی امید کی ایک اور گولی پانی کے بغیر نگل لیتے ہیں۔

شاید مسئلہ نسخے کا نہیں، مریض کو دیکھنے کے انداز کا ہے۔ جب تک علاج بیماری کے بجائے صرف رپورٹ کا ہوتا رہے گا، سرکاری فائلوں میں معیشت صحت مند اور گلیوں، بازاروں، کھیتوں اور گھروں میں عوام کمزور دکھائی دیتے رہیں گے۔اور پھر اگلے سال وہی حکیم، وہی مسکراہٹ، وہی میز اور وہی قلم ہوگا۔ صرف نسخے کی تاریخ بدل جائے گی۔وہ پھر کہے گا!گھبرائیے نہیں، اس بار دوا پہلے سے بہتر ہے۔اور مریض خاموشی سے اپنا پرانا نسخہ جیب میں رکھ کر نیا نسخہ سنبھال لے گا، کیونکہ شاید ہمارے معاشی نظام میں سب سے مضبوط چیز امید نہیں بلکہ وعدوں کی وہ ابدی دوا ہے جو ہر سال نئے لیبل کے

ساتھ پرانی بوتل میں فروخت ہوتی رہتی ہے۔ آخر میں راقم کا قطعہ ملاحظہ فرمائیں:

مشیرِ زر کا یہ نسخہ بھی اک تماشہ ہے
بجٹ بنایا تو ہے خوب ، جیب خالی ہے

کتابِ زر میں معیشت تو مسکراتی ہے
مگر نگر کا ہر اک آدمی سوالی ہے

اپنا تبصرہ لکھیں