‘ہم کب تک اس حکومت کے خوف تلے زندگی گزاریں گے’، کاکروچ جنتا پارٹی کے پہلے احتجاجی مظاہرے میں کیا کچھ ہوا؟

ہاتھ میں ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کی آپ بیتی اٹھائے ابھیجیت دپکے نے ایئرپورٹ پر کہا کہ ‘وزیر تعلیم کو استعفی دینا پڑے گا کیونکہ ان کی وجہ سے پانچ طلبہ نے خودکشی کی ہے’۔

ابھیجیت دپکے دہلی ایئرپورٹ سے نکل رہے ہیں

بھارت کی آن لائن طنزیہ سیاسی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے بانی ابھیجیت دپکے آج صبح جب امریکا سے دہلی ایئرپورٹ پہنچے تو سینکڑوں نوجوانوں نے ان کا استقبال کیا۔ ابھیجیت ایئرپورٹ سے پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن پہنچے اور جنتر منتر کے مقام پر اپنے پہلے پر امن احتجاجی مظاہرے کا اجازت نامہ طلب کیا۔ دہلی پولیس نے بغیر کسی رکاوٹ ان کو پر امن احتجاج کی اجازت دے دی۔

جنتر منتر کے مقام پر عوام کے جم غفیر کے سامنے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے ابھیجیت نے کہا کہ ‘آپ ہمارے سوشل میڈیا پوسٹ تو ڈیلیٹ کر سکتے ہیں، پر ہمیں ختم نہیں کر سکتے’۔

جنتر منتر کے مقام پر سینکڑوں نوجوان سی جے پی کے مظاہرے میں شریک ہیں

تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے اور مرکزی ترجمان سوربھ داس کے مطابق، اس مظاہرے کا واحد مقصد وزیر تعلیم دھرمیندرا پردھان کا استعفی مانگنا ہے۔ ابھیجیت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘ہم ایک مہینے سے وزیر تعلیم کا استعفی مانگ رہے ہیں لیکن حکومت سنجیدہ اقدامات کرنے کے بجائے ہمارے سوشل میڈیا اکاونٹس اور ویب سائٹ بلاک کرنے کے پیچھے لگی ہوئی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ بھارت واپس آتے ہوئے میری ماں میرے لیے پریشان تھی اور رو رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ حکومت تمہیں جیل میں ڈال دے گی۔ ابھیجیت نے کہا کہ یہ صرف میری ماں کا نہیں بلکہ ہر اس ماں کا ڈر ہے جس کا بچہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘ہم کب تک اس حکومت کے خوف تلے زندگی گزاریں گے؟’۔

ابھیجیت دپکے جنتر منتر کے مقام پر مظاہرین سے خطاب کر رہے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں عوامی مقصد کے لیے اپنی ذاتی آزادی قربان کرنے کو تیار ہوں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان مظاہروں اور احتجاجوں کا کیا فائدہ ہوگا تو میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارے زندہ ہونے کا ثبوت ہے’۔

ابھیجیت نے حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘شاید حکومت کے لیے ہم کھیڑے مکوڑوں کی مانند ہیں، لیکن ہم زندہ ہیں اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے قابل ہیں’۔

2014 میں ہندوتوا نظریات کی حامی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد بھارت میں مذہبی آزادی کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ ہندو-مسلم سیاست نے معاشرے کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ ابھیجیت نے کہا کہ ‘پچھلے 10، 12 سال سے حکومت نے ہمیں ہندو مسلم سیاست میں جکڑ کر رکھا ہے، اس سے کس کو فائدہ ہوا؟ کیا ہندو-مسلم سیاست نے اس ملک میں کسی کو روزگار کے مواقع دیے ہیں؟’۔

انہوں نے اپنی تحریک کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی روایتی سیاسی تحریک نہیں، بلکہ یہ طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک ہے۔ ابھیجیت نے کہا کہ ‘اب بھارت کے نوجوان ڈریں گے نہیں، بلکہ لڑیں گے، کاکروچ نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی کبھی مرتے ہیں’۔

ایجوکیٹر سونم وانگچک ابھیجیت کے ساتھ کھڑے خطاب کر رہے ہیں

لداخ سے تعلق رکھنے والے مشہور کلائیمیٹ اکٹوسٹ اور ایجوکیٹر سونم وانگچک بھی اس مظاہرے میں شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ احتجاج ایک ‘درخواست اور اپیل’ ہے۔ ہم استعفی سے زیادہ حکومت کی جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ نے احتجاج کے لیے تعلیم کے مدعے کو چنا، اس پر میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں’۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے منتظیمین نے مظاہرے کے اختتام پر کہا کہ اگر وزیر تعلیم نے استعفی نہ دیا تو ملک بھر میں مظاہرے جاری رہیں گے۔ انہوں نے اگلے ہفتے کو دوبارہ جنتر منتر کے مقام پر ایک بڑے مظاہرے کا عندیہ بھی دیا۔

اس سے قبل امریکا سے نئی دہلی کے لیے نکلتے ہوئے بانی ابھیجیت دپکے نے نوجوانوں سے اپیل کی تھی کہ جنتر منتر کے مقام پر آتے ہوئے اپنے ساتھ قومی پرچم، پھول اور کتاب لائیں، تاکہ امن کا پیغام دیا جا سکے۔

اس موقع پر مظاہرین کی اکثریت کے ہاتھوں میں پھول نظر آئے۔ نوجوانوں نے موقع پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ اس موقع ہر کئی مظاہرین نے کاکروچ کے ماسک بھی پہنے ہوئے تھے۔

کاکروچ ماسک پہنے ہوئے مظاہرین جنتر منتر کے مقام پر موجود ہیں

یاد رہے، کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ آن لائن سیاسی تحریک ہے، جو اس وقت سامنے آئی، جب مئی کے وسط میں بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران نوجوانوں کو ‘کاکروچ’ تشبیہ دی۔ ان ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی طرف سے شدید ردعمل آیا۔ ایسے میں امریکا میں مقیم، بوسٹن یونیورسٹی کے گریجویٹ بھارتی طالب علم ابھیجیت دپکے نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ‘کیا ہوگا اگر سارے کاکروچ ایک جگہ اکھٹے ہو جائیں’۔ یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے بہت زیادہ وائرل ہوئی اور چند گھنٹوں کے اندر ابھیجیت نے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے نام سے ایکس اور انسٹاگرام اکاونٹس سمیت ایک ویب سائٹ بنائی۔

ان اکاونٹس کے فالوورز چند ہی دنوں میں بہت تیزی کے ساتھ بڑھے۔ بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی نے تعلیم نظام میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر تعلیم درمیندرا پردھان کے استعفی کا مطالبہ کیا اور اسی سلسلے میں آج جنتر منتر کے مقام پر پہلا احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس میں شرکت کے لیے ابھیجیت امریکا سے پہنچے۔

اس وقت (جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں) کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام اکاونٹ کے 22.3 ملین فالوورز ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں