وزارت انصاف نے میڈیا مصنوعات کی’ اخلاقیاتی جانچ’ کا منصوبہ منسوخ کر دیا

ازبکستان کی وزارت انصاف نے ان رپورٹس کے جواب میں، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ، میڈیا مصنوعات کے لیے ‘اخلاقیاتی جانچ’ نافذ کی جا سکتی ہے، کہا کہ میڈیا مصنوعات کی جانچ صرف قانونی حیثیت کے لیے کی جا سکتی ہے۔


وزارت انصاف کو اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے معلوم ہوا کہ ،مرکز برائے روحانیت و روشنی، ایجنسی برائے اطلاعات و ماس کمیونیکیشن، وزارت ثقافت، ایجنسی برائے فلم سازی، قومی ٹیلی ویژن و ریڈیو نشریاتی کمپنی اور قومی میڈیا ایسوسی ایشن کے ذریعے اختیار کردہ دستاویزات میں ایسے ضوابط شامل تھے جو افراد اور قانونی اداروں کے حقوق کو متاثر کر سکتے تھے۔


وزارت انصاف نے واضح کیا کہ، موجودہ قانون سازی کے مطابق، وزارتی اور محکمہ جاتی قانونی ضوابط کو وزارت انصاف میں رجسٹر ہونا ضروری ہے، غیر رجسٹر شدہ قواعد و ضوابط قانونی نتائج پیدا نہیں کر سکتے۔


وزارت نے مزید بتایا کہ،۔میڈیا مصنوعات کی ‘اخلاقیاتی جانچ’ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور اس دستاویز کو اختیار کرنے والے اداروں نے اسے واپس لے لیا ہے۔


اس دوران، وزارت انصاف نے مرکز برائے روحانیت و روشنی کو تجویز دی کہ، وہ موجودہ قانون سازی کی خلاف ورزی کرنے والی میڈیا مصنوعات کو ختم کرنے کے لیے مجاز اداروں کو تجزیاتی تجاویز مقررہ طریقہ کار کے مطابق پیش کرے۔


واضح رہے کہ، مرکز برائے روحانیت نے نومبر کے اوائل میں’ اخلاقیاتی جانچ’ کا منصوبہ اپنانے کا اعلان کیا تھا۔ عوام اور تخلیقی شعبے کے نمائندوں کی تنقید کے بعد، جنہوں نے اس منصوبے کو سنسرشپ کے طور پر دیکھا، مرکز نے کہا کہ ماہرین کا گروپ صرف سفارشات جاری کرے گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں