روسی وزارتِ خارجہ کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خصوصی ایلچی ، میخائل بوگدانوف نے ماسکو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “روس شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ” اُنہوں نے مزید کہا کہ “رابطہ دمشق کے ایک ہوٹل میں قائم سیاسی کمیٹی سے کیا گیا، جو اُس وقت وہاں کام کر رہی ہے۔”
بوگدانوف نے بتایا کہ نئی شامی حکومت نے دمشق میں موجود روسی سفارتکاروں سے ملاقات کی ہے اور روسی سفارت خانے کے عملے کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان ملاقاتوں میں سب سے اہم موضوع روسی سفارتی مشن اور اس کے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔
بوگدانوف کے مطابق، شامی اور روسی حکام کے درمیان یہ رابطے تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
بوگدانوف نے کہا، “ہمیں توقع ہے کہ ان گروپوں اور افراد کے نمائندے جو اب شہر کی صورتحال کے ذمہ دار ہیں، کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعات کو روکیں گے۔”
واضح رہے کہ بشار الاسد، جو تقریباً 25 سال سے شام کے رہنما تھے، مخالف گروہوں کی جانب سے دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد روس فرار ہو گئے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی بعث پارٹی کا اقتدار ختم ہو گیا، جو 1963 سے اقتدار میں تھی۔