‘پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی ایک “ناقابلِ شکست” روایت قائم ہوئی ہے’، چینی صدر اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات

چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان اور چین کی دوستی کو ‘ناقابلِ شکست’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔

چینی صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے بیجنگ میں عظیم عوامی ہال میں ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین میں موجود ہیں، جہاں وہ مختلف اعلیٰ سطح ملاقاتیں اور اقتصادی تعاون سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

دوطرفہ مذاکرات کے دوران صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم شہباز شریف کو ‘پرانا دوست’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے کئی دہائیوں کے دوران ایک دوسرے پر اعتماد، تعاون اور حمایت کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک ‘ناقابلِ شکست روایت’ قائم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود چین نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اپنی ہمسایہ سفارت کاری میں ترجیح دی ہے۔ ان کے بقول چین پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ مستقبل کی حامل پاک چین برادری کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

اس موقع پر پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بھی موجود تھے، جو حال ہی میں ایران کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ صدر شی جن پنگ نے ان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور چین اس تعمیری کردار کی قدر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان سفارتی سطح پر سرگرم رہا ہے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے تناظر میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی اقدامات کیے۔

صدر شی جن پنگ نے چین میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل دونوں ممالک کے درمیان دوستی، تعاون اور عوامی روابط کو آگے بڑھا رہی ہے، جو انتہائی حوصلہ افزا بات ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر چین اور پاکستان کو ‘آہنی بھائی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کو پاکستان کا عظیم دوست اور امن پسند انسانیت کا حامی قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہو رہے ہیں اور یہ عظیم شراکت داری دونوں ممالک کے بانی رہنماؤں کی دوراندیشی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تعلق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک نے اس موقع پر سال بھر تقریبات منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نہ صرف ایک عالمی اقتصادی طاقت بن چکا ہے بلکہ عالمی امن، ترقی اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ‘بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے’ اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خطے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں معاشی اور انتظامی سطح پر اصلاحات کی جا رہی ہیں، تاہم ابھی مزید طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، پاک چین تعاون، سی پیک کے اگلے مرحلے اور خطے میں امن و استحکام پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور پاکستان و چین کو مل کر امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے میں جاری بحران نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی اور امریکی قیادت کے ساتھ رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکی سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں مستقل امن بحال ہوگا اور اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔ وزیراعظم نے جنگ بندی اور امن کی کوششوں میں تعاون پر چین اور صدر شی جن پنگ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ماحولیات، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، میڈیا، انسدادِ دہشت گردی، انسانی وسائل، خلائی تعاون اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں 15 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

ان معاہدوں میں خشک میوہ جات اور مکئی کی چین برآمد، ماحولیاتی تعاون، زرعی شعبے میں اشتراک، خبروں کے تبادلے، دستاویزی فلموں کی مشترکہ تیاری، سائنسی تعاون، آزاد تجارت اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے شامل ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب اس کے اگلے مرحلے میں صنعت کاری، زراعت، ڈیجیٹل تبدیلی، صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا، جبکہ مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

انہوں نے اس بات کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا کہ پاکستانی خلا بازوں کو چین کے خلائی پروگرام میں شامل کیا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی جہت کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں