“ازبکستان کی لوک داستانیں “ وہ سرزمین جو خدا نے اپنے لیے پسند کی

تاشقند اردو نے اپنے قارئین کے لیے ازبکستان کی قدیم لوک داستانوں کا ایک خصوصی سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت ہر ہفتے ازبک عوامی روایات اور دلچسپ حکایات پیش کی جاتی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اور خوبصورت داستان حاضرِ خدمت ہے، جو ازبک عوام میں نسل در نسل سنائی جاتی رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب دنیا ابھی نئی نئی آباد ہوئی تھی اور مختلف قومیں اپنے اپنے وطن کی تلاش میں تھیں۔ روایت کے مطابق ایک دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زمین مختلف قوموں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ خبر سنتے ہی دنیا بھر سے لوگ دوڑتے ہوئے آئے۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ اسے بہترین زمین ملے۔ کوئی سرسبز میدانوں کی خواہش رکھتا تھا، کوئی بلند پہاڑوں کا طلب گار تھا اور کوئی دریاؤں اور جھیلوں والی زمین چاہتا تھا۔

ایک ازبک شخص بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ وہ وقت پر پہنچ گیا تھا، مگر اس کی عادت دوسروں سے مختلف تھی۔ جب بھی کوئی بوڑھا، کمزور یا ضرورت مند شخص اس کے قریب آتا، وہ ادب سے پیچھے ہٹ جاتا اور اسے آگے جانے دیتا۔ ایک کے بعد ایک لوگ اپنی پسند کی زمین لیتے گئے اور وہ خاموشی سے سب کو راستہ دیتا رہا۔

یوں ہوتے ہوتے شام ڈھل گئی اور آخر میں صرف وہی شخص باقی رہ گیا۔جب اس کی باری آئی تو زمین تقسیم ہو چکی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا،”تم آخر میں کیوں آئے؟”۔اس نے عاجزی سے جواب دیا۔
“اے میرے رب! میں تو وقت پر آ گیا تھا، مگر راستے میں ہر اس شخص کو آگے جانے دیتا رہا جسے مجھ سے زیادہ ضرورت تھی۔”اس کی بات سن کر اللہ تعالیٰ خوش ہوئے۔فرمایا:
“تم نے اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے سوچا۔ تم نے لالچ نہیں کیا اور دوسروں کو ترجیح دی۔ اس لیے میں تمہیں وہ زمین دیتا ہوں جسے میں نے اپنے لیے پسند کیا تھا۔”
لوک روایت کے مطابق یہی زمین آج کا ازبکستان ہے۔
کہانی کہتی ہے کہ اسی لیے اس سرزمین کو قدرت نے زرخیز میدان، بلند پہاڑ، نیلگوں دریا، سرسبز وادیاں اور تاریخی شہر عطا کیے۔ ازبک عوام اس داستان کو صرف ایک کہانی نہیں بلکہ اپنی قومی شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں، کیونکہ اس میں انکساری، مہمان نوازی، ایثار اور دوسروں کو ترجیح دینے کا سبق پوشیدہ ہے۔

آج بھی ازبکستان میں جب کسی مہمان کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے یا کسی ضرورت مند کی مدد کی جاتی ہے تو بزرگ مسکرا کر کہتے ہیں:
“یہ اسی سرزمین کی روایت ہے جو خدا نے اپنے لیے پسند کی تھی۔”

اپنا تبصرہ لکھیں