کوئٹہ ٹرین بم دھماکہ: چند بنیادی باتیں

کوئٹہ ٹرین بم دھماکہ تکلیف دہ ضرور ہے، حیران کن ہر گز نہیں۔ آپریشن سندور کی شر انگیزی کے نتیجے میں ذلت سے دوچار ہونے کے بعد بھارت اب براہ راست حملے کی تو جرات نہیں کر سکتا، اس لیے اب اس نے دو متبادل محاذ کھول رکھے ہیں۔ دہشت گردی اس کا پہلا متبادل محاذ ہے۔

پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے سہولت کار کسی سے چھپے نہیں۔ کچھ وہ ہیں جو براہ واست جنگ میں شکست کے بعد دہشت گردی پر اتر آئے ہیں، کچھ وہ ہیں جنہیں گوادر ہضم نہیں ہو پا رہا، کچھ کے نشانے پر سی پیک سے جڑے امکانات ہیں۔ کچھ وہ ہیں جنہیں ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کا کردار پسند نہیں آ رہا کیوں کہ پاکستان کی وجہ سے یہ صہیونی سازش ناکام ہوئی کہ عرب ایران جنگ شروع ہو جائے۔ بہت سے نام ہیں، کچھ بے پردہ ہیں کچھ پردہ دار ہیں۔ جوں جوں پاکستان اقوام عالم میں معتبر ہوتا رہا ہے، بد خواہوں کی تکلیف بڑھتی جا رہی ہے۔ چنانچہ ایک ایسے وقت میں جب فیلڈ مارشل ایران سے لوٹے ہیں، وزیر اعظم چین میں ہیں اور پاکستان کی کوششوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ چکے ہیں، کوئٹہ کو لہو میں نہلا دیا گیا ہے۔

اس واردات میں بھارت کے حلیف بھی سب کے سامنے ہیں۔ بدلتے حالات میں، چاہیے تو یہ تھا افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلق کا سب سے بڑا حوالہ معیشت ہوتی اور افغانستان اور پاکستان دونوں اس سے فائدہ اٹھاتے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہو رہا ہے اور افغانستان سے بھارتی پراکسیز پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔

بھارت ہمارا دشمن ہے لیکن افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ یہاں ہماری خیر خواہی رہی ہے اس لیے معاملہ سمجھنے میں بعض لوگوں کو مشکل آتی ہے۔ لیکن حیران کن طور پر ان دونوں ملکوں میں ایک قدر مشترک ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ قدر مشترک پاکستان دشمنی ہے ۔

یہ کوئی عارضی یا اضطراری بات نہیں ہے۔ اس کے تاریخی شواہد موجود ہیں اور میں یہ پہلے لکھ بھی چکا ہوں۔ یہاں تذکیر کے لیے ایک بار پھر دہراتا ہوں تاکہ تاشقند اردو کے قارئیں تک بات واضح طور پر پہنچائی جا سکے کہ بھارت اور افغانستان کی پاکستان سے مخاصمت کی فکری بنیاد کیا ہے؟

بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے قیام نے بھارت ماتا کی تقسیم کی ہے۔ افغانستان کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کے قیام سے افغانستان کی زمین تقسیم ہوئی ہے۔

بھارت کا بھی پاکستان کی زمین پر دعویٰ ہے اور حکومت کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، یہ دعویٰ قائم رہتا ہے۔اسی طرح افغانستان کا بھی پاکستان کی زمین پر دعویٰ ہے اور حکومت ظاہر شاہ کی ہو، کرزئی کی ہو یا طالبان کی، اس دعوے میں کوئی فرق نہیں آتا۔

دنیا میں صرف دو ہی ملک ہیں جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف باقاعدہ ایک مؤقف رکھتے ہیں اور اس کی زمین پر قبضے کی اعلانیہ خواہش رکھتے ہیں۔ ایک بھارت ہے دوسرا افغانستان ہے ۔

ان دونوں ممالک کا بنیادی مؤقف ہی پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

بھارت بھی پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار بنا چکا ہے اور یکطرفہ طور پر اس نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ افغانستان بھی بھارت کی مالی معاونت کے ساتھ اسی راستے پر چل رہا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے وہ سندھ طاس نامی کسی معاہدے کو نہیں مانتا اور افغانستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے لیے پاکستان کم از کم پچھلے 25 سال سے کوششیں کر رہا ہے لیکن افغانستان ایسے کسی معاہدے پر راضی نہیں ہوا۔ ڈیم بنانا ہر ملک کا حق ہے اور افغانستان کا بھی۔ لیکن بین الاقوامی قانون کے مطابق نیچے کی طرف واقع ریاستوں کا بھی پانی پر حق ہوتا ہے اور اس حق کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے جہاں بین الاقوامی قوانین موجود ہیں وہیں دو طرفہ معاہدے بھی کیے جاتے ہیں۔ پاکستان عشروں سے اس معاملے میں افغانستان کے ساتھ معاہدے کی کوشش کر رہا ہے مگر افغانستان نہیں مان رہا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ایران کے ساتھ تو افغانستان کا پانی کی تقسیم کا معاہدہ موجود ہے۔ لیکن پاکستان کے ساتھ وہ کوئی معاہدہ کرنے کو تیار نہیں، سوال یہ ہے کہ پاکستان سے ایسا کون سا قصور ہوا ہے کہ اس کے ساتھ نہ قوم پرست حکومت کوئی معاہدہ کرنے کو تیار تھی، نہ اسلام پسند حکومتوں کو یہ گوارا ہوا؟

بھارت کا افغانستان سے کیا لینا دینا؟ اس کی افغانستان سے کیا خیر خواہی؟ اس کا مفاد صرف اتنا سا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔ یہ کام وہ قیام پاکستان کے وقت سے کر رہا ہے۔

کوئٹہ ٹرین کا دھماکہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایسے واقعات نے دکھوں کی ایک مالا پرو دی ہے لیکن ہمارے ہاں یکسوئی نہیں آ پا رہی۔ ہمارے ہاں اگر مگر بہت ہوتی ہے۔ سماج لہو لہو ہوا پڑا ہے لیکن یہاں اگر مگر کی گردان ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں پاکستانی قوم کو یکسوئی سے اس معاملے کو سمجھنا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔احساس ذمہ دار کے تحت پاکستان میں بھائی چارے اور محبت کی تکرار اتنی زیادہ ہوئی کہ پڑوس اب دشمنی پر بھی اتر آئے تو ہمیں یقین نہیں آتا۔ ہمارے لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ اس کنفیوژن سے نکل کر معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔

پاکستان اس وقت اقوام عالم میں سرخرو کھڑا ہے۔ پوری امید ہے کہ عید کے بعد (یا اس سے پہلے بھی) امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کا قد کاٹھ مزید بڑھے گا انشا اللہ۔ بہت ساے تزویراتی اور معاشی امکانات پیدا ہوں گے۔ ایسے میں پاکستان میں دہشت گردی کی واردات ایک واضح پیغام ہے۔ اس کا جواب یکسوئی کے ساتھ ہی دیا جا سکتا ہے۔ اگر مگر کی کیفیت سے نکل کر۔ دہشت گردی کے جتنے جواز ہمارے ہاں پیش کیے گئے ہیں دنیا میں شاید ہی کہیں پیش کیے گئے ہوں ۔اس سلسلے کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں