الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں دفاعی ماہرین اور پالیسی حلقوں میں اس وقت یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگی صورتِ حال کے دوران استعمال ہونے والے میزائل اور گولہ بارود کی بڑی مقدار نے امریکی دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام عوامی طور پر یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ ملک کے پاس مطلوبہ اسلحہ موجود ہے، تاہم اندرونی جائزے اور دفاعی تجزیہ کاروں کی رپورٹس اس کے برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق کچھ اہم اقسام کے ہتھیار تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور انہیں دوبارہ معمول کی سطح پر لانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری رہنے والی کشیدگی اور اس کے دوران ہونے والی فضائی و میزائل کارروائیوں میں امریکہ نے اپنے جدید ترین دفاعی نظام کے بڑے حصے استعمال کیے، خاص طور پر وہ انٹرسپٹرز جو آنے والے بیلسٹک حملوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنے جدید دفاعی انٹرسیپٹرز کا ایک بڑا حصہ استعمال کیا، جس میں بعض اندازوں کے مطابق نصف تک ذخیرہ صرف ایک محدود مدت میں خرچ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندر میں نصب دفاعی میزائل بھی بڑی تعداد میں استعمال ہوئے، جبکہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی بھی بھاری کھپت ہوئی۔
واشنگٹن میں قائم ایک معروف تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے جنگ کے دوران اپنی کئی اہم اقسام کی گولہ بارود کی بڑی مقدار استعمال کی ہے، اور کم از کم چار اہم اقسام کے ہتھیاروں کا ذخیرہ پہلے سے موجود مقدار کے نصف سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دفاعی انٹرسیپٹرز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک مخصوص قسم کے کروز میزائلوں کے بھی ہزاروں یونٹ استعمال ہو چکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف استعمال نہیں بلکہ دوبارہ پیداوار کی رفتار ہے۔ امریکہ میں دفاعی صنعت اگرچہ فعال ہے لیکن موجودہ طلب کے مقابلے میں پیداوار کی رفتار کم ہے۔ سپلائی چین کے مسائل، خام مال کی کمی، اور ہنر مند افرادی قوت کی قلت جیسے عوامل اس رفتار کو مزید محدود کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ پہلے جیسی سطح پر ذخائر بحال کرنے میں ایک سے چار سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ اس کے اتحادی ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ خاص طور پر ایشیا میں امریکہ کے اتحادی ممالک، جو دفاعی تحفظ کے لیے امریکی نظام پر انحصار کرتے ہیں، اس بات پر فکر مند ہیں کہ اگر کسی اور بڑے تنازعے جیسے چین یا شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو موجودہ ذخائر دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ اسی طرح یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی اتحادی ممالک اس امر پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ امریکہ کی دفاعی صلاحیت مسلسل تنازعات کے باعث کمزور نہ ہو۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی اور اتحادی دفاعی نظام کو بھی بھاری نقصان اور اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے مجموعی دفاعی اخراجات اور دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین اسے محض وقتی کمی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک دباؤ قرار دے رہے ہیں، جو مستقبل کی جنگی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ کسی بھی نئے بڑے فوجی آپریشن کی صورت میں نہ صرف مالی لاگت بلکہ دفاعی ذخائر کا سوال بھی اہم ہو جائے گا۔ اسی تناظر میں بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کو مستقبل کی جنگوں کے لیے اپنی دفاعی تیاریوں اور صنعتی پیداوار کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ وہ مسلسل بڑھتی ہوئی عالمی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔