کیا وسطی ایشیا دنیا کی نئی معاشی اور تجارتی طاقت بن رہا ہے؟

دنیا میں بدلتی ہوئی سیاسی اور معاشی صورتحال کے درمیان وسطی ایشیا آہستہ آہستہ ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اگرچہ خطے کے ممالک الگ الگ زیادہ اثر و رسوخ نہیں رکھتے، لیکن مشترکہ تعاون کے ذریعے وہ عالمی تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کئی برسوں تک وسطی ایشیا کو روس، چین اور امریکا جیسی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک اہم جغرافیائی خطہ سمجھا جاتا رہا، مگر اب خطے کے ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے تحت ایک نئے علاقائی تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قازقستان، ازبکستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان اب آذربائیجان کے ساتھ مل کر تجارت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس تعاون کو “C5+آذربائیجان” فریم ورک کہا جا رہا ہے۔

اس تعاون کا سب سے اہم حصہ “مڈل کوریڈور” منصوبہ ہے، جو چین اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کو تیز بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس راستے کے ذریعے تجارتی سامان کی ترسیل کا وقت 35 سے 45 دن سے کم ہو کر تقریباً 13 سے 21 دن تک آ سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی خطے کے ممالک مشترکہ منصوبوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ کرغزستان میں پن بجلی منصوبہ “کامباراتا HPP-1” قازقستان اور ازبکستان کے تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ بحیرہ کیسپین کے ذریعے بجلی اور توانائی کی ترسیل کے نئے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیا اور آذربائیجان کی مشترکہ آبادی تقریباً 9 کروڑ 40 لاکھ ہے جبکہ مجموعی معیشت 650 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے، جس کے باعث یہ خطہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

وسطی ایشیا یورپی یونین جیسا سخت اتحاد نہیں بنانا چاہتا بلکہ خطے کے ممالک اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے عملی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان اور ایران کی صورتحال، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور تجارتی راستوں پر بڑھتی عالمی مسابقت نے خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں