امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایک غیر معمولی منصوبہ زیر غور تھا جس کا مقصد ایران میں اقتدار کی تبدیلی اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کو ممکنہ طور پر ایک نئی قیادت کے طور پر سامنے لانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اور اس منصوبے سے واقف بعض افراد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے ابتدائی دنوں میں ایسا حملہ بھی کیا گیا جس کا مقصد تہران میں نظر بند سابق صدر احمدی نژاد کو ان کے گھر میں موجود سکیورٹی حصار سے نکالنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وسیع تر منصوبے کا حصہ تھی جس کا ہدف ایران میں حکومت کی تبدیلی بتایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے پہلے ہی دن ہونے والے ایک حملے میں احمدی نژاد کے گھر کے قریب سکیورٹی اہلکار مارے گئے جبکہ خود سابق صدر بھی معمولی زخمی ہوئے، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ بعد میں ایرانی حکام نے بھی ان کی ہلاکت کی ابتدائی خبروں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ زندہ ہیں، لیکن ان کی نقل و حرکت محدود رہی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ منصوبہ اس سوچ کے تحت بنایا گیا تھا کہ ایران کے اندر موجود کچھ عناصر کو اقتدار کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض امریکی اہلکار خود اس منصوبے کی عملی کامیابی پر شکوک و شبہات رکھتے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے اور سیاسی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، لیکن یہ حکمتِ عملی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی اور ایرانی حکومت برقرار رہی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق جنگ کے آغاز میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ فوجی دباؤ، داخلی سیاسی تبدیلی اور بعض علاقائی گروہوں کی مدد سے ایران میں ایک نئی حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے، تاہم یہ منصوبہ توقعات کے مطابق آگے نہ بڑھ سکا۔
رپورٹ کے مطابق بعد کے مراحل میں بعض امریکی اور اسرائیلی حکام اب بھی یہ سمجھتے رہے کہ ایران کے اندرونی اختلافات کو استعمال کر کے سیاسی تبدیلی ممکن ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ موجودہ ایرانی نظام زیادہ مضبوط ثابت ہوا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس حوالے سے امریکا یا اسرائیل کی حکومت کی جانب سے اس تفصیلی دعوے پر کوئی واضح سرکاری ردِعمل فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔