‘کاکروچ جنتا پارٹی’، بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس نے ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم کو کیسے جنم دیا؟

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ایک متنازع بیان نے سوشل میڈیا پر طنز، احتجاج اور ایک نئی علامتی سیاسی مہم کو جنم دے دیا ہے، جسے “کاکروچ جنتا پارٹی” کا نام دیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اُس وقت شروع ہوا جب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران بعض نوجوانوں کو ‘کاکروچ’ یعنی لال بیگ سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بے روزگار نوجوان، جنہیں کہیں روزگار نہیں ملتا، سوشل میڈیا یا مختلف سرگرمیوں کے ذریعے نظام پر حملے کرتے ہیں۔

ان کے اس بیان پر نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے فوری طور پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ کئی لوگوں نے اسے بھارتی نوجوانوں، کارکنوں اور صحافیوں کی توہین قرار دیا۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان تمام نوجوانوں کے لیے نہیں تھا بلکہ ان مخصوص افراد کے لیے تھا جو جعلی ڈگریوں یا غلط طریقوں سے نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔

تاہم یہ وضاحت نوجوانوں کے غم و غصے کو مکمل طور پر کم نہ کر سکی۔

اسی دوران امریکہ میں مقیم 30 سالہ بھارتی طالب علم ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ ‘اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟’

یہ جملہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک آن لائن تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ ڈپکے نے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ بنا دی، جہاں ہزاروں نوجوانوں نے خود کو اس علامتی جماعت میں سائن اِن کیا۔

صرف چند دنوں میں اس طنزیہ جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لاکھوں لوگ جمع ہو گئے جبکہ تین لاکھ سے زیادہ افراد نے آن لائن فارم بھر کر رکنیت کے لیے درخواست دی۔

اس تحریک میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بعض اپوزیشن سیاستدانوں نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔ الجزیرہ کے مطابق، کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک مذاق نہیں بلکہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی بے چینی اور مایوسی کی ایک واضح علامت ہے۔

بھارت اس وقت بے روزگاری، مہنگائی، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، اور مذہبی تقسیم جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہیں، لیکن بڑی تعداد کو مناسب روزگار نہیں مل پاتا۔

ماہرین کے مطابق چیف جسٹس کے الفاظ نے نوجوانوں کے اندر پہلے سے موجود غصے کو مزید ابھار دیا ہے۔ کئی انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا نے بھی اس بیان پر تنقید کی ہے۔

سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ بیان نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف موجود گہری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں نوجوان خود کو نظرانداز اور دباؤ کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔

‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر طنزیہ منشور بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں خود کو ‘سست، بے روزگار اور ہر وقت آن لائن رہنے والے نوجوانوں کی جماعت’ قرار دیا گیا ہے۔

اس جماعت کا نعرہ ‘نوجوانوں کی، نوجوانوں کے لیے، نوجوانوں کی جماعت’ رکھا گیا ہے، جبکہ اس کے منشور میں بھارتی سیاست، میڈیا، عدلیہ اور طاقتور کاروباری شخصیات پر طنزیہ تبصرے شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پوری مہم کو منظم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے پروگراموں کا بھی استعمال کیا گیا۔ ڈپکے کے مطابق انہوں نے چند ہی گھنٹوں میں جماعت کا نام، منشور، لوگو اور پوری مہم تیار کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں نوجوان نسل اب طنز اور سوشل میڈیا کے ذریعے سیاسی اظہار کا نیا انداز اپنا رہی ہے، اور بھارت میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ اسی رجحان کی ایک مثال ہے۔

اگرچہ یہ کوئی حقیقی سیاسی جماعت نہیں، لیکن اس نے بھارت میں نوجوانوں کی ناراضی، بے روزگاری اور سیاسی ماحول پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں