‘وسیع پیمانے پر احتجاج شروع ہو سکتا ہے’، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی وزیراعظم پاکستان سے صوبے میں سی این جی بحران کے معاملے پر فوری مداخلت کی اپیل

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے صوبے میں جاری سی این جی بحران کے معاملے پر فوری مداخلت کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ صورتحال اگر برقرار رہی تو صوبے میں “وسیع پیمانے پر احتجاج” شروع ہو سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی کے نے پیر کے روز وزیراعظم کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ وفاقی محکمہ پیٹرولیم کی جانب سے سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ ایل این جی کی سپلائی میں مشکلات بتائی گئی ہے۔

خط میں وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ محدود سپلائی میں نظام چلا رہی ہے، تاہم خیبر پختونخوا کی صورتحال کو الگ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ مجموعی طور پر گیس پیدا کرنے والا ایک بڑا خطہ ہے، جہاں روزانہ تقریباً 494 ملین مکعب فٹ گیس پیدا ہوتی ہے جبکہ اوسط استعمال 120 ملین مکعب فٹ ہے۔ ان کے مطابق سی این جی سیکٹر کو تقریباً 36 سے 40 ملین مکعب فٹ گیس درکار ہوتی ہے، جو اس وقت کھاد کے شعبے کو منتقل کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی میں کمی سے عوامی سطح پر شدید ردعمل اور ممکنہ طور پر امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس صوبے میں گیس کے ذخائر ہوں، اسے پہلے استعمال کا حق حاصل ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا بھی ذکر کیا جس میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش پر سوال اٹھایا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ یا تو سی این جی سیکٹر کے لیے 36 سے 40 ملین مکعب فٹ گیس کی بحالی کا حکم دیا جائے، یا پھر اس مسئلے کو فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اٹھایا جائے تاکہ اس کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ معاملے کو فوری حل نہ کیا گیا تو اس کے معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ عوامی احتجاج اور بدامنی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں