بھارت نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور ایران جنگ کے تناظر میں برکس ممالک سے ایک ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے کی توقعات بڑھ رہی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس جاری ہے، جس میں ایران بھی شریک ہے۔ ایران اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد جنگ بندی کی صورتحال میں ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اجلاس کے افتتاحی خطاب میں کہا ہے کہ دنیا اس وقت بین الاقوامی تعلقات میں بڑی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جاری تنازعات، معاشی غیر یقینی صورتحال، تجارت، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی چیلنجز عالمی منظرنامے کو متاثر کر رہے ہیں، اور ایسے میں ترقی پذیر ممالک کو برکس سے مثبت کردار کی امید ہے۔
جے شنکر نے زور دیا کہ حالیہ تنازعات نے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی مشترکہ ترجیح ہے۔
برکس گروپ میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ بعد میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور ایران بھی شامل ہوئے۔
اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک ہیں، جبکہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی اس بار اجلاس میں موجود نہیں کیونکہ چین اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ کی میزبانی کر رہا ہے۔
برکس وزرائے خارجہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے، جبکہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
برکس اتحاد عالمی مالیاتی نظام میں متبادل ڈھانچے قائم کرنے، امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے کے مقصد پر کام کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برکس ممالک دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی اور عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 32 فیصد حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔