بھارت اسمگل کیے جانے والے 20 بنگلہ دیشی بچے خصوصی اجازت ناموں کے تحت وطن واپس پہنچ گئے

بھارت اسمگل کیے جانے والے 20 بنگلہ دیشی بچے، جو غیر قانونی داخلے کے مقدمات میں سزا مکمل کر چکے تھے، خصوصی سفری اجازت ناموں کے تحت وطن واپس پہنچ گئے۔

یہ بچے بھارتی پیٹراپول امیگریشن پولیس نے بیناپول چیک پوسٹ پر بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کیے۔ واپس آنے والوں میں 13 لڑکیاں اور سات لڑکے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ان بچوں کا تعلق جیسور، نارائل، کھلنا اور باگرہاٹ اضلاع سے ہیں۔

بینا پول امیگریشن پولیس کے مطابق یہ بچے 2024 کے آغاز میں اپنے والدین کے ساتھ انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر بھارت گئے تھے۔ بعد ازاں ان کے والدین مغربی بنگال میں گھریلو اور زرعی کاموں میں مصروف ہو گئے تھے۔

2025 کے آخر میں بھارتی حکام نے انھیں حراست میں لیا۔ بعد ازاں عدالت نے غیر قانونی داخلے کے جرم میں مختلف مدت کی سزائیں سنائیں۔

سزا مکمل ہونے کے بعد انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی مداخلت پر بچوں کو مغربی بنگال کے مختلف شیلٹر ہومز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

بدھ کی شام دونوں ممالک کے حکام کے تعاون سے خصوصی سفری اجازت ناموں کے ذریعے ان بچوں کی وطن واپسی ممکن بنائی گئی۔

امیگریشن کارروائی مکمل ہونے کے بعد بچوں کو بیناپول پورٹ پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا۔

بینا پول پورٹ پولیس اسٹیشن نے کہا ہے کہ بچوں کو تین انسانی حقوق کی تنظیموں، جسٹس اینڈ کیئر، ویمن لائرز ایسوسی ایشن اور رائٹس جیسور، کے حوالے کیا گیا، جو ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انھیں ان کے خاندانوں سے ملائیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں