امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بیجنگ پہنچنے والے وفد میں امریکہ کی چند بڑی کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان میں ایپل، ٹیسلا اور این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو افسران شامل ہیں۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بدستور اہم ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارت کے حجم میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین اس کی وجہ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، اضافی ٹیرف اور دیگر تجارتی پابندیوں کو قرار دیتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس امریکہ اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 414.7 ارب ڈالر رہا، جبکہ 2022 میں یہ 690.4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
صدر ٹرمپ بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارت متوازن نہیں۔ گزشتہ سال امریکہ نے چین سے 200 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی اشیا درآمد کیں، جبکہ چین کو امریکی برآمدات اس کے مقابلے میں کم رہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس فرق کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ چین کو زیادہ امریکی مصنوعات فروخت کی جائیں۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع بڑھنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکی سویا بین کے کاشت کاروں، گائے کے گوشت کے تاجروں اور طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔