آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے فاسٹ باؤلر بلی اسٹین لیک کو اسکواڈ میں شامل کر کے کئی شائقین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ وہ تقریباً 7 برس بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے چکے ہیں۔
31 سالہ بلی اسٹین لیک نے آخری مرتبہ 2019 میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی تھی۔ ان کے انتخاب کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ آسٹریلیا کے اہم فاسٹ باؤلرز مچل اسٹارک، پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ انڈین پریمیئر لیگ مصروفیات کے باعث دستیاب نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ بین ڈوارشئیس اور زیویئر بارٹلیٹ کو بنگلہ دیش کے دورے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جس کے بعد آسٹریلوی سلیکٹرز نے اسٹین لیک کو موقع دینے کا فیصلہ کیا۔
6 فٹ 8 انچ قد رکھنے والے اسٹین لیک نے 2017 میں ون ڈے اور بعد ازاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں آسٹریلیا کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ ابتدائی کامیابی کے بعد انہیں کرکٹ آسٹریلیا کا سینٹرل کنٹریکٹ بھی ملا جبکہ وہ انڈین پریمیئر لیگ میں رائل چیلنجرز بنگلورو اور بعد میں سن رائزرز حیدرآباد کی نمائندگی بھی کرتے رہے۔
تاہم فارم میں کمی اور مسلسل انجریز نے ان کے کیریئر کو شدید متاثر کیا۔ وہ مئی 2021 سے ستمبر 2023 تک تقریباً دو سال پیشہ ورانہ کرکٹ سے دور رہے۔
اسٹین لیک نے واپسی کے بعد تسمانیہ کے لیے محدود اوورز کی کرکٹ باقاعدگی سے کھیلنا شروع کی، جبکہ ان کے ورک لوڈ کو بھی احتیاط سے منظم کیا گیا۔
2025-26 کے ون ڈے کپ میں انہوں نے تسمانیہ کے لیے پانچ میچ کھیلتے ہوئے 7 وکٹیں حاصل کیں اور ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں مدد دی۔
آسٹریلیا کے چیف سلیکٹر جارج بیلی نے کہا کہ گزشتہ سال قومی ٹیم کے ایک تربیتی کیمپ کے دوران اسٹین لیک کو نیٹ باؤلر کے طور پر بلایا گیا تھا، اور ان کی تیز اور خطرناک باؤلنگ نے بیٹرز کو متاثر کیا۔
جارج بیلی کے مطابق اسٹین لیک کی رفتار، باؤنس اور جارحانہ انداز انہیں منفرد بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ اپنی بہترین فارم میں ہوتے ہیں تو بیٹرز کے لیے ان کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انجریز کے باوجود ہمت نہ ہارنے پر اسٹین لیک مکمل کریڈٹ کے مستحق ہیں، جبکہ تسمانیہ کرکٹ نے بھی ان کی فٹنس اور واپسی کے لیے راہ ہموار کی۔