امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ جائزہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران اپنی بڑی فوجی صلاحیت دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ایران کی فوج بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب موجود اپنے 33 میں سے 30 میزائل اڈوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔ یہ علاقہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران اب بھی اپنے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور جنگ سے پہلے موجود میزائل ذخیرے کا بڑا حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب ہے۔ ان میں بیلسٹک اور کروز میزائل دونوں شامل ہیں۔
خفیہ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہیں اور لانچنگ تنصیبات اب جزوی یا مکمل طور پر دوبارہ فعال ہو چکی ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ اور امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران کی فوجی طاقت ختم ہو چکی ہے اور وہ کئی برس تک مؤثر کارروائی کے قابل نہیں رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں میں ایران کو خاصا نقصان پہنچا، کئی اہم عسکری مراکز تباہ ہوئے اور اعلیٰ فوجی شخصیات ہلاک ہوئیں، تاہم ایران کی مکمل فوجی صلاحیت ختم نہیں کی جا سکی۔
امریکی حکام کے مطابق جنگ کے دوران امریکہ نے بڑی تعداد میں ٹوماہاک میزائل، پیٹریاٹ دفاعی میزائل اور دیگر جدید ہتھیار استعمال کیے، جس کے باعث امریکی اسلحہ ذخائر پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔