بالی ووڈ انڈسٹری مستقبل، نئے چہروں اور بڑے منصوبوں کے شور میں مسلسل آگے بڑھنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے، لیکن شاہ رخ خان اور کاجول کی 1995 کی مشہور فلم ‘دل والے دلہنیا لے جائیں گے’ آج بھی ایسی مقبولیت اور ثقافتی حیثیت رکھتی ہے جو موجودہ رومانوی فلموں کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔
حال ہی میں ‘دی اکیڈمی’ نے اس فلم کو ’’ٹریول رومانس واچ لسٹ‘‘ میں شامل کیا، جس کے بعد اداکارہ کاجول نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایک بار پھر یہ بحث سامنے آئی کہ تین دہائیوں بعد بھی یہ فلم عالمی سطح پر نہ صرف یاد رکھی جا رہی ہے بلکہ آج بھی جذباتی طور پر لوگوں سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
بالی ووڈ ہنگامہ کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ بالی ووڈ ہمیشہ ’’کل‘‘ کے خواب بیچنے میں مصروف رہتا ہے۔ نئی فلمیں، نئے اسٹارز، نئی فرنچائزز اور نئے ریکارڈز فلمی انڈسٹری کی ترجیح بن چکے ہیں، لیکن ایسے میں پرانی فلمیں بار بار واپس آ کر یہ یاد دلاتی ہیں کہ اصل پائیدار کامیابی کیا ہوتی ہے۔
مضمون کے مطابق ‘ڈی ڈی ایل جے’ صرف ایک پرانی فلم نہیں بلکہ ایک ایسی ثقافتی یادداشت بن چکی ہے جسے لوگ آج بھی محبت، رومانوی جذبات اور ہندی سینما کی ایک خاص شناخت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا کہ جب بھی دنیا ہندی سنیما کی لازوال فلموں کا ذکر کرتی ہے تو بالی ووڈ آج بھی انہی چند پرانی رومانوی فلموں پر انحصار کرتا نظر آتا ہے۔
مضمون کے مطابق، موجودہ دور کی فلمی صنعت زیادہ تر اوپننگ ویک اینڈ، اسٹریمنگ حقوق، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور فوری کاروباری کامیابی پر توجہ دیتی ہے، جبکہ ایسی فلمیں کم بنتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود لوگوں کے دلوں میں زندہ رہ سکیں۔
مضمون میں کہا گیا ہےکہ ایک فلم سوشل میڈیا پر مقبول ہو سکتی ہے، ریکارڈ توڑ کمائی کر سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ آنے والی نسلوں کے لیے یادگار نہیں بنتی۔ اس کے برعکس ‘ڈی ڈی ایل جے’ کو کسی تعارف یا وضاحت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ فلم خود بخود لوگوں کی یادداشت کا حصہ بن چکی ہے۔
مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ڈی ڈی ایل جے آج بھی مقبول ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ نئی رومانوی فلمیں ویسا مستقل اثر کیوں پیدا نہیں کر پا رہیں۔
تحریر کے مطابق جب بھی عالمی سطح پر بالی ووڈ کی کسی لازوال فلم کا ذکر ہوتا ہے تو اکثر ماضی کی یہی فلمیں سامنے آتی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ فلمی صنعت ابھی تک اپنی نئی رومانوی کہانیوں کو اسی مقام تک نہیں پہنچا سکی۔