امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تاہم نیتن یاہو نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ٹرمپ کے ساتھ ’’مکمل ہم آہنگی‘‘ ہے اور دونوں تقریباً روزانہ رابطے میں رہتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی میڈیا میں مسلسل یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایران سے جاری تنازع اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے حوالے سے واشنگٹن اب اسرائیل کو پہلے کی طرح اعتماد میں نہیں لے رہا۔
امریکی نژاد اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار ڈاہلیا شائنڈلن نے کہا کہ نیتن یاہو جتنا زیادہ تعلقات کو بہترین قرار دے رہے ہیں، اتنا ہی زیادہ شبہ پیدا ہو رہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ ان کے بقول جنگ اپنے ابتدائی مقاصد کے لحاظ سے ناکامی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو طویل عرصے سے ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ممالک میں عوامی مقبولیت کی سیاست کو فروغ دیا۔ تاہم 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد دونوں کی سیاسی قسمت ایک دوسرے سے جڑ گئی۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کئی برسوں سے مختلف امریکی صدور کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے کی مخالفت میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا۔
اسرائیل کے سابق سفارتکار الون پنکاس کے مطابق نیتن یاہو نے رواں برس فروری میں ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایران کے خلاف جنگ ہی واحد حل ہے اور یہ جنگ چند دنوں میں جیت لی جائے گی۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی صدر کو یہ تاثر دیا کہ ایرانی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، عوام بغاوت کے قریب ہیں اور ایرانی حکومت کمزور ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس اور فوجی حکام نے خبردار کیا تھا کہ ایران خلیجی ممالک اور امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے، تاہم نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ سمیت بعض امریکی حکام نے ان خدشات کو کم اہمیت دی۔
بعد ازاں صورتحال ان اندازوں کے برعکس نکلی۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں رجیم چینج کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا، عوامی بغاوت سامنے نہیں آئی اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی۔
الون پنکاس کے مطابق مارچ کے اختتام تک ٹرمپ نیتن یاہو سے مایوس دکھائی دینے لگے تھے۔ اس دوران جب امریکی مذاکرات کار ایرانی حکام اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف تھے تو اسرائیل کو اس عمل سے باہر رکھا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امن مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کا معاملہ شامل نہیں، حالانکہ اسرائیل انہیں اپنی اولین ترجیحات قرار دیتا ہے۔
ٹرمپ نے بعض مواقع پر نیتن یاہو پر کھلے عام تنقید بھی کی۔ مثال کے طور پر جب اسرائیل نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا تو ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو ایسا نہ کرنے کا کہا تھا۔
بعد ازاں لبنان میں جنگ بندی کے معاملے پر بھی ٹرمپ نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کو مزید بمباری سے روک دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اب بھی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ بندی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی اور مستقبل میں دوبارہ مشترکہ امریکی اسرائیلی کارروائیاں ہو سکتی ہیں، تاہم اب تک ایسی کارروائیوں کے آثار واضح نہیں ہیں۔
امریکہ میں اسرائیل کے سابق سفیر ڈینیل شاپیرو نے کہا کہ ٹرمپ اب اپنی توجہ چین کے دورے اور چینی صدر شی چن پنگ سے ملاقات پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں، اس لیے وہ ایران تنازع کو جلد ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نیتن یاہو کو یقین ہے کہ اگر وہ وقتی طور پر کسی امن معاہدے کو قبول بھی کر لیں تو مستقبل میں دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ ٹرمپ نیتن یاہو سے اس لیے بھی محتاط رہتے ہیں کیونکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم امریکی سیاست میں اب بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب الون پنکاس کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کی ناکامی دونوں رہنماؤں کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل میں آئندہ انتخابات نیتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ امریکہ میں کانگریس انتخابات ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کمزور کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اس جنگ نے دونوں رہنماؤں کو سیاسی طور پر ایک دوسرے کے لیے مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘‘