خلیج عمان اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے والے ایرانی دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ مسلسل دوسرے روز بحری جھڑپوں کا واقعہ ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سفارتی حل سامنے آتا ہے، امریکہ غیر ذمہ دارانہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
ادھر جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملے دو مارچ سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی کے بعد اب تک کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے یورپی اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف صرف بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔
امریکی حملے کے بعد ایرانی جہاز سے کم از کم ایک ملاح کی لاش برآمد ہوئی ہے، جبکہ دس افراد زخمی اور چار لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد اب تک 57 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے، جبکہ تین بحری جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔