‘یہ کامیابی لاکھوں افراد کی قربانیوں کا نتیجہ تھی’، ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی ماسکو میں جنگ عظیم دوم کی فتح کی 81 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے ہفتے کے روز ماسکو میں دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی 81ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت کی۔

ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں یومِ فتح کی مرکزی پریڈ منعقد ہوئی جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ازبک صدر شوکت مرزائیوف، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف، لاؤس کے صدر تھونگلون سسولِت، ملائیشیا کے فرمانروا سلطان ابراہیم، سلوواکیہ کے وزیرِ اعظم رابرٹ فِتسو سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں اور وفود نے شرکت کی۔

ازبک صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دوسری جنگِ عظیم میں کامیابی لاکھوں افراد کی قربانیوں، بہادری اور استقامت کا نتیجہ تھی، جس میں ازبکستان کے عوام نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

بیان کے مطابق جنگ سے قبل ازبکستان کی آبادی 60 لاکھ سے زائد تھی، جبکہ جنگ کے دوران تقریباً 20 لاکھ ازبک شہری محاذِ جنگ پر بھیجے گئے۔ شدید لڑائیوں میں پانچ لاکھ 38 ہزار سے زیادہ ازبک شہری جاں بحق ہوئے جبکہ ایک لاکھ 58 ہزار سے زائد لاپتا قرار پائے۔

بیان میں کہا گیا کہ جنگ میں بہادری اور عسکری مہارت کے اعتراف میں دو لاکھ 14 ہزار سے زائد ازبک فوجیوں اور افسروں کو اعزازات اور تمغے دیے گئے۔ 301 افراد کو ’’ہیرو آف سوویت یونین‘‘ کا خطاب ملا جبکہ 70 افراد ’’آرڈر آف گلوری‘‘ کے اعزاز یافتہ قرار پائے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ازبکستان کے عوام نے محاذ کے پیچھے رہتے ہوئے بھی جنگی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا اور خوراک، کپڑوں، ادویات، اسلحے اور دیگر ضروری سامان کا بندوبست کیا۔ مختصر مدت میں ازبکستان میں 170 سے زائد کارخانے قائم کیے گئے تاکہ دفاعی صنعت کی پیداوار جاری رکھی جا سکے۔

بیان کے مطابق جنگ کے دوران ازبک عوام نے انسان دوستی اور رواداری کی مثال قائم کی۔ محاذ کے قریب علاقوں سے منتقل کیے گئے 15 لاکھ سے زائد افراد، جن میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ یتیم بچے بھی شامل تھے، کو ازبکستان میں پناہ دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ آج بھی ملک میں جنگی ہیروز اور محاذ کے پیچھے خدمات انجام دینے والوں کی یاد کو محفوظ رکھنے اور سابق فوجیوں کی فلاح کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ تاشقند میں قائم ’’فتح باغ‘‘ یادگاری کمپلیکس کو ان قربانیوں اور بہادری کی علامت قرار دیا گیا۔

پریڈ کے بعد صدر شوکت مرزائیوف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ ماسکو کے الیگزینڈر گارڈن میں واقع ایک سپاہی کی قبر پر پھول بھی رکھے۔

یہ یادگار دوسری جنگِ عظیم میں جان قربان کرنے والے لاکھوں فوجیوں، بشمول ازبکستان کے شہریوں، کی یاد میں قائم کی گئی ہے اور اسے وطن کے دفاع کرنے والوں کی قربانی، بہادری اور استقامت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

تقریبات کا اختتام ایک منٹ کی خاموشی، اعزازی گارڈ کی سلامی اور فوجی بینڈ کی خصوصی پریڈ کے ساتھ ہوا۔

اپنا تبصرہ لکھیں