اسرائیلی فورسز نے گولان کی پہاڑیوں میں بفر زون کی حدود کو عبور کرتے ہوئے متعدد علاقے تحویل میں لے لیے ہیں۔ اس کارروائی کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر مصر نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
مصر کی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ مصر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شام میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور یہ جارحیت امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
گولان کی پہاڑیاں شام کے جنوب مغرب میں واقع ایک اسٹریٹجک خطہ ہیں، جسے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے قبضے میں لے لیا تھا۔ 1974 میں ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت اس علاقے میں ایک غیر فوجی علاقہ (بفر زون) قائم کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور شام کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا تھا، اور اس پر اقوام متحدہ کی امن فوج (UNDOF) نے نگرانی شروع کی۔
مصر کا مؤقف
مصر نے اپنے سرکاری بیان میں درج ذیل نکات پر زور دیا ہے
اسرائیل کی جانب سے بفر زون میں داخلہ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی معاہدوں کے خلاف ہے۔
مصر کے مطابق اسرائیل کی اس کارروائی سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مصر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی اس جارحیت کا نوٹس لے اور اس کے خلاف مناسب کارروائی کرے تاکہ عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
بین الاقوامی ردِعمل
اسرائیل کے اس اقدام پر دیگر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی ماضی میں بفر زون کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔
گولان کی پہاڑیوں کی اسٹریٹجک اہمیت
گولان کی پہاڑیاں ایک اسٹریٹجک مقام ہیں جہاں سے اسرائیل اور شام کی سرحدوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کا مرکز بنا ہوا ہے۔
گولان کے علاقے میں پانی کے ذخائر موجود ہیں، جنہیں اسرائیل اپنے لیے ایک اہم وسیلہ سمجھتا ہے۔
مصر کی مذمت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کے تنازعے پر عرب ممالک اب بھی متفقہ موقف رکھتے ہیں۔ یہ معاملہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کے علاقائی اقدامات پر عالمی سطح پر بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ مصر کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل ایک سفارتی قدم ہے، جس کا مقصد خطے میں طاقت کے غیر متوازن استعمال کو روکنا اور امن کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔