چین کے جنوبی صوبے ہونان میں آتش بازی مواد بنانے والی ایک فیکٹری میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 26 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
چینی حکام کے مطابق، دھماکہ پیر کی دوپہر لیویانگ میں واقع فیکٹری میں ہوا۔ بعد ازاں سامنے آنے والی ویڈیوز میں امدادی کارکنوں کو جلتے ہوئے ملبے اور تباہ شدہ عمارتوں میں سرچ آپریشن کرتے دیکھا گیا۔ دھماکے سے قریبی گھروں کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی کے مطابق انہوں نے ہدایت کی کہ اہم صنعتوں میں حفاظتی خطرات کی نشاندہی اور اصلاح کے اقدامات مزید سخت کیے جائیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 61 افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم زخمیوں کی حالت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، چین میں صنعتی حادثات ایک عرصے سے بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ 2019 میں ملک کے مشرقی حصے میں ایک کیمیکل پلانٹ کے دھماکے میں 78 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ برسوں میں حفاظتی اقدامات سخت کیے ہیں، تاہم آتش بازی کی صنعت اب بھی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
لیویانگ شہر چین میں آتش بازی کی صنعت کا ایک بڑا مرکز مانا جاتا ہے جہاں ہزاروں افراد اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ اسی شہر میں 2019 میں بھی ایک آتش بازی فیکٹری کے دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ فیکٹری میں موجود بارودی مواد کے دو گودام اب بھی خطرناک حالت میں ہیں اور مزید دھماکوں کا خدشہ موجود ہے۔