پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کُرم میں کئی روز سے جاری جھڑپوں میں کے بعد فریقین کے درمیان معاہدہ ، حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی مداخلت سے ہفتے کی شام فریقین جنگ بندی اور مسئلے کو پر امن طور پر مذاکرات سے حل کرنے پر متفق ہوئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق کرم میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ کرم کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اتوار کو ضلع بھر میں حالات پر امن رہے۔
فسادات شروع کیسے ہوئے؟
خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کُرم میں فرقہ وارانہ اور زمین کے مسئلے پر کشیدگی کئی ماہ سے جاری تھی۔ 21 نومبر کو پاڑاچنار کے مقام پر ایک مسافر بس پر حملہ کیا گیا جِس میں 45 افراد جاں بحق ہوئے۔ 22 نومبر کو ضلع کُرم میں مختلف جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں ۔ حکام کے مطابق اِس کشیدگی میں 130 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 186 افراد زخمی ہوئے۔
ان جھڑپوں میں متعدد دُکانیں اور گھر فائرنگ کی زد میں آ کر تباہ ہوئے ۔ ان واقعات کے بعد کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔