پاکستان میں تعینات ازبک سفیر علی شیر تختیوف نے اعلان کیا ہے کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست پروازیں 29 نومبر 2024 سے دوبارہ شروع ہو رہی ہیں۔ یہ پروازیں تاشقند اور لاہور کے درمیان چلائی جائیں گی، جس کا مقصد علاقائی رابطوں کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، اور سیاحتی تعلقات کو مزید تقویت دینا ہے۔
صدر شوکت مرزائیوف کی قیادت کا کلیدی کردار
سفیر نے اس پیش رفت کو ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی قیادت اور وژن کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “صدر مرزائیوف کی حکمت عملی اور قیادت کی بدولت ازبکستان نے ستمبر 2024 سے پاکستانی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں کا دوبارہ اجرا کیا، جو دونوں اقوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے میں ایک اہم قدم ہے۔”
تجارتی اور سیاحتی مواقع
ازبک سفیر علی شیر تختیوف نے کہا کہ براہ راست پروازیں تاجروں اور سیاحوں کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گی۔
ازبک سفیر علی شیر تختیوف نے مزید کہا کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ 5 سالوں میں تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، 2019 میں $122 ملین ڈالرز سے بڑھ کر 2024 کے آخر تک $400 ملین ڈالرز تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان پاکستانی زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور چمڑے کے سامان میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ پاکستان ازبک صنعتی مصنوعات، پھلوں اور سبزیوں کی طلب رکھتا ہے۔
ازبکستان کی تاریخی اور ثقافتی ورثہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم عنصر ثابت ہوگا۔