2029 میں انسان ماضی میں واپس جا سکتا ہےامریکی سائنسدان کا دعویٰ

پتھر کے زمانے سے سفر کا آغاز کرنے والا انسان جب مصنوعی ذہانت کے دور میں پہنچ چُکا ہے تو وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ “میں ماضی میں واپس جا سکتا ہوں.”
معروف امریکی کمپیوٹر سائنسدان اور مستقبل کی پیشین گوئی کرنے والے رے کرزوایل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ “2029 تک انسان کا ماضی میں واپس جانے کا سفر ممکن ہو سکتا ہے”. اُن کا یہ دعویٰ ایک معروف تصور کی بنیاد پر ہے جِسے سائنس کی دُنیا میں “longevity escape velocity” یا “طول حیات سے فرار” کا نام دیا جاتا ہے.

رے کرزوایل کا یہ دعویٰ کس بنیاد پر ہے؟

امریکی سائنسدان رے کرزوایل کا یہ دعویٰ “longevity escape velocity” کے کانسپٹ کی بنیاد پر ہے. انہوں نے امریکہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں یہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “میڈیکل سائنس میں ترقی کی وجہ سے انسان اگر ایک سال اپنی زندگی گزارتا ہے تو اُسے 4 ماہ واپس ملتے ہیں.” یعنی انسان کی زندگی 4 مہینے بڑھ جاتی ہے.” 2029 سے 2035 تک انسان میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی کر جائے گا کہ ایک سال گزارنے سے اُسے ایک سال واپس مل جائے گا، ترقی کی رفتار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم ماضی میں واپس جانے کا سفر کر سکتے ہیں. “

امریکی سائنسدان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ” ہم نے کووڈ-19 کی ویکسین محض 10 مہینوں میں تیار کر لی، جبکہ اس کی بنیادی تیاری 2 دن میں ہی ہو گئی تھی. کیوں کہ ہم نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اربوں mRNA سیکوئنسز کو دو دن میں ترتیب دے لیا تھا.” انہوں نے مزید کہا کہ سیمولیٹڈ بائیولوجی کے استعمال میں بھی نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے جو اگلے 5 سالوں میں حیرت انگیز ترقی کی راہ ہموار کرے گی.

واضح رہے کہ رے کرزوایل ان اولین سائنسدانوں میں سے ہیں جنہوں نے مصنوعی ذہانت پر کام کرنا شروع کیا اور مصنوعی ذہانت کے متعلق ان کی کی گئی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی.

کیا ہم واقعی وقت کا دھارا پلٹ سکتے ہیں؟

رے کرزوایل نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دُنیا کے سائنسی حلقوں میں ایک بڑا نام ہیں، ان کی سائنسی پیشین گوئیاں 86٪ سچ ثابت ہوتی ہیں، اسٹین فورڈ میں تو ان کی پیشین گوئیوں پر باقاعدہ تحقیقی کام ہوا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تصور جتنا حیران کن ہے اتنا متنازع بھی ہے.

اگر 2029 تک واقعی طبی ترقی اس رفتار سے آگے بڑھتی ہے پھر بھی ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا، کیوں کہ جدید ترین طبی ٹیکنالوجی تک صرف چند افراد ہی رسائی حاصل کر سکتے ہیں. یہ دعویٰ پوری انسانیت کے لیے کارگر نہیں.

تاہم اس پیشین گوئی سے ایک ایسے مستقبل کی جھلک نظر آتی ہے، جس کی امید یا خوف ہمیں آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں