سنیچر کو تاشقند کے ضلع ، ینگیہیوت میں یانگی اولودصنعتی زون کے منصوبے کے دورے پر، صدر شوکت مرزائیوف نے دارالحکومت کے لیے ایسے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ازبک صدر نے کہا کہ، اس طرح کے منصوبے اس ہوا کی مانند ہیں، جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ اگر ہر ضلع میں دو، چار، پانچ ایسے صنعتی زونز بن جائیں، تو تاشقند ایک حقیقی صنعتی زون میں تبدیل ہو جائے گا، جیسا کہ ہمارا مقصد ہے۔ اگر ہم سرمایہ کاروں کے ساتھ احترام کے ساتھ برتاؤ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو ہم جی ڈی پی کو 200 بلین ڈالر تک نہیں لا سکیں گے۔ تاشقند کو اس علاقے میں ایک مثال بننا چاہیے، اور 10 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کو اپنی طرف مائل کرنا چاہیے۔
ازبکستان 24 ٹی وی چینل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ، صدر نے اس موقع پر صنعتی اداروں کو شہر کے مرکز سے منتقل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
ازبکستان میں چائنا سی اے ایم سی انجینئرنگ کے نمائندہ دفتر کے سربراہ نے کہا کہ، ہماری کمپنی ازبکستان کے صنعتی زون کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اس کے اہم سرمایہ کاروں میں سے ایک بننے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی کے ایگزیکٹیو نے کہا کہ، ازبک صنعتی زون فوڈ پروسیسنگ، آٹوموٹیو ، ٹیکسٹائلز، اور برقی مصنوعات کی پیداوار والے چینی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کیلئے اپنی طرف مائل کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ، 40 سے زائد چینی کمپنیوں نے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہیں۔
چائنیز جی اے سی موٹرز کے ڈائریکٹر برائے وسطی ایشیا ، یو و اَن نے کہا کہ،ہماری کمپنی کا پلانٹ صنعتی زون کے 30 ہیکٹر پر واقع ہوگا اور سالانہ 50 ہزار منی بسیں تیار کر سکے گا۔ پہلی مصنوعات 2025 کی دوسری سہ ماہی میں تیار ہونے کی توقع ہے۔ اس منصوبے کا تخمینہ $135 ملین ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ، زون کی سرزمین پر لیبارٹریز، تحقیقی مراکز، کانفرنس ہالز اور ریٹیل جگہیں قائم کرنے کا منصوبہ ہے، ایک تربیتی مرکز بھی بنایا جائے گا جس کی بدولت یہاں صنعتی اداروں کے ماہرین کو تربیت دی جائے گی۔
مجموعی طور پر، 1.375 بلین ڈالر کے 47 منصوبے اس زون میں فوڈ انڈسٹری، تعمیراتی سامان کی پیداوار، الیکٹریکل انجینئرنگ، مکینیکل انجینئرنگ اور کیمیکل مصنوعات جیسی صنعتوں میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان اداروں سے تقریباً 12 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے