وٹامن ڈی کا زیادہ استعمال اس کے فوائد کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے، تحقیق

ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ وٹامن ڈی کا زیادہ استعمال اس کے فوائد کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق، جسم میں وٹامن ڈی کی کمی دل کی بیماری، ذیابیطس، کینسر، ذہنی دباؤ اور یادداشت کی کمزوری جیسے مسائل سے جوڑی جاتی ہے، جس کے باعث لوگ اس کے سپلیمنٹ زیادہ استعمال کرنے لگے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد بغیر ضرورت اور محفوظ حد سے زیادہ مقدار میں وٹامن ڈی لے رہے ہیں، جو نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، وٹامن ڈی کی تجویز کردہ یومیہ مقدار 70 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے 20 مائیکروگرام جبکہ ایک سے 70 سال تک کے افراد کے لیے 15 مائیکروگرام ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق، 75 سال سے کم عمر صحت مند افراد کو عام طور پر اضافی وٹامن ڈی لینے کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ بچوں، معمر افراد، حاملہ خواتین اور کچھ مخصوص بیماریوں کے شکار افراد کو اس کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

وٹامن ڈی کو ‘دھوپ کا وٹامن’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سورج کی روشنی سے جسم میں بنتا ہے اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کیلشیم اور فاسفورس کے جذب میں مدد دیتا ہے، تاہم دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں اس کے فوائد کے شواہد ابھی مکمل طور پر حتمی نہیں ہیں۔

کچھ بڑی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی لینے سے دل کے دورے، فالج یا کینسر کے امکانات میں واضح کمی نہیں آتی، البتہ بعض کیسز میں کینسر کے مریضوں میں اموات کی شرح کم دیکھی گئی۔ اسی طرح کچھ تحقیق میں خودکار مدافعتی بیماریوں کے خطرے میں کمی اور خلیات کے بڑھاپے کی رفتار کم ہونے کے شواہد بھی ملے، مگر ڈپریشن، یادداشت یا ڈیمنشیا پر اس کے اثرات ثابت نہیں ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق، وٹامن ڈی کی سطح مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے، جن میں رہائش کا علاقہ، عمر، جلد کا رنگ، وزن، خوراک اور بعض بیماریاں شامل ہیں۔

دوسری جانب زیادہ مقدار میں وٹامن ڈی لینا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جسم میں جمع ہو جاتا ہے۔ اس کی زیادتی سے خون میں کیلشیم بڑھ سکتا ہے، جو شریانوں یا نرم بافتوں میں جمع ہو کر مسائل پیدا کر سکتا ہے، جبکہ گردے کی پتھری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ کچھ تحقیقات میں زیادہ مقدار لینے والوں میں گرنے کے خطرات بھی زیادہ پائے گئے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ وٹامن ڈی کی مقدار پر نظر رکھی جائے اور عام طور پر روزانہ 15 سے 20 مائیکروگرام سے زیادہ نہ لی جائے، جب تک ڈاکٹر خاص طور پر زیادہ مقدار تجویز نہ کرے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکن ہو تو وٹامن ڈی ادویات کے بجائے خوراک سے حاصل کیا جائے، جیسے مچھلی، دودھ، انڈے اور دیگر غذائیں جن میں یہ وٹامن شامل ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سپلیمنٹ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ مقدار درست رکھی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں