ازبکستان میں زرعی زمین کے نظام میں بڑی اصلاحات کی تیاری کی جا رہی ہے، جن کا مقصد زمین کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنانا، مقامی کسانوں کو ترجیح دینا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے واضح قواعد متعارف کرانا ہے۔
یہ تجاویز صدر شوکت مرزائیوف کی زیرِ صدارت ایک اجلاس میں زیر غور آئیں، جس میں زمین کے وسائل کے بہتر انتظام اور زرعی شعبے کی کارکردگی بڑھانے پر زور دیا گیا۔
نئی پالیسی کے تحت زرعی زمین کی نیلامی اب بنیادی طور پر مقامی کسانوں اور کاروباری افراد کے لیے مخصوص ہوگی، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زمین براہِ راست نیلامی کے بجائے ثانوی لیز کے نظام کے تحت دی جائے گی۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم ایک کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری اور غیر استعمال شدہ زمین کو قابلِ کاشت بنانے کی شرط بھی تجویز کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ تمام زرعی زمینوں کے لیے لیز کی مدت 49 سال تک رکھنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد مقامی کسانوں کو زیادہ خودمختاری دینا ہے تاکہ وہ اپنی مرضی سے فصلوں کا انتخاب کر سکیں۔ اس سے قبل محدود اختیارات کے باعث بڑی مقدار میں زرعی زمین استعمال میں نہیں آ سکی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب آئندہ مرحلے میں ہزاروں ہیکٹر زمین پر برآمدی فصلوں کی کاشت بڑھانے کا منصوبہ ہے، جس سے غیر ملکی زرمبادلہ میں اضافہ متوقع ہے۔
حکومت بڑے زرعی منصوبوں اور مویشی پالنے کے شعبے کو بھی فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے لیے زمین کے چھوٹے بڑے پلاٹس نیلام کیے جائیں گے اور مختلف مراعات جیسے نرم قرضے اور سبسڈی بھی فراہم کی جائیں گی۔
صدر مرزیایوف نے زمین کے نظام میں موجود تاخیر اور کاغذی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت دی ہے، تاکہ زمین کی رجسٹریشن اور انتظامی عمل کو شفاف بنایا جا سکے۔
حکومت کے مطابق ناجائز استعمال ہونے والی زمین پر سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ عوامی مفاد کے منصوبوں جیسے سڑکوں اور ہوائی اڈوں کے لیے زمین کی منتقلی کے قواعد بھی آسان کیے جائیں گے۔
یہ اصلاحات ازبکستان کے زرعی شعبے کو زیادہ شفاف، جدید اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانے کی ایک بڑی کوشش قرار دی جا رہی ہیں۔