روس نے ایک مرکزی پائپ لائن کے ذریعے سے قازقستان کے تیل کی جرمنی کو ترسیل روکنے کا اعلان کیا ہے، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ

فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی سے قازقستان کے تیل کی ڈرزوبا پائپ لائن کے ذریعے جرمنی کو ترسیل روک دے گا۔ یہ تیل شمالی ڈرزوبا پائپ لائن کے راستے پولینڈ سے گزرتا ہوا جرمنی کے شہر شویڈٹ کی ریفائنری تک پہنچتا ہے، جو برلن اور اس کے اطراف کے علاقوں کو ایندھن فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے کے نتیجے میں روزانہ تقریبا 45 ہزار بیرل تیل کی فراہمی متاثر ہوگی، جو جرمنی کو قازقستان سے ہونے والی مجموعی سپلائی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، قازقستان اور جرمنی کو جو نیا برآمداتی شیڈول بھیجا گیا ہے اس میں مئی سے اس ترسیل کو صفر کر دیا گیا ہے۔

روس نے اس اقدام کی باضابطہ وجہ تکنیکی صلاحیت کے مسائل کو قرار دیا ہے، تاہم توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ روس اور جرمنی کے درمیان یوکرین جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جرمنی پہلے ہی روس سے براہ راست تیل کی درآمد بند کر چکا ہے، جس کے بعد قازقستان سے متبادل سپلائی حاصل کی جا رہی تھی۔

اس فیصلے سے جرمنی کی توانائی کی صورتحال پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ شویڈٹ ریفائنری کی مجموعی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس سے جرمنی کی توانائی کی ضروریات خاص طور پر مشرقی علاقوں میں متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں بھی تیل کی قیمتوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

متبادل کے طور پر جرمنی پولینڈ کی گڈانسک بندرگاہ کے ذریعے تیل درآمد کرنے پر غور کر سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ راستہ زیادہ مہنگا اور انتظامی طور پر پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

قازقستان کے توانائی کے وزیر کی جانب سے غیر رسمی طور پر اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مئی کے لیے ڈرزوبا پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل مکمل طور پر بند ہو جائے گی، تاہم روس کی طرف سے ابھی تک اس پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں