بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چودھری نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ فروری تک ملک پر غیر ملکی قرضہ 78 ارب 7 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے ایک آزاد رکنِ پارلیمان رومین فرحانہ کے سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک 91 کروڑ ڈالر کے قرضے واپس کیے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2008-09 سے لے کر 2025-26 تک بنگلہ دیش نے مجموعی طور پر 85 ارب 99 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے۔ اس دوران 22 ارب 70 کروڑ ڈالر اصل رقم اور 8 ارب 70 کروڑ ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے۔
اجلاس کے دوران رومین فرحانہ نے کہا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد بینکوں سے قرض لینے میں تیزی آئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے صرف 52 دن میں بینکوں سے 44 ہزار 500 کروڑ ٹکہ قرض لیا، جس سے رواں مالی سال کا ہدف بھی تجاوز کر گیا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت کے پاس آمدنی بڑھانے کے لیے کوئی نیا منصوبہ موجود ہے۔
اس پر وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چودھری نے جواب دیا کہ بینکوں سے لیا جانے والا زیادہ تر قرضہ پچھلے دور سے چلا آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی مقامی بینکوں پر انحصار کم کرنا ہے، اور آئندہ بجٹ میں یہ بات واضح ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کئی کاروبار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بعض ادارے نہ قرضے واپس کر پا رہے ہیں، نہ ملازمین کو تنخواہیں دے سکتے ہیں، جبکہ کئی کارخانے بند ہونے کے قریب ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق ٹیکس اور معیشت کے حجم کے تناسب میں بھی ماضی میں کمی آئی، جسے دوبارہ بہتر سطح پر لانے میں وقت لگے گا۔