اڈانی گروپ کو بھاری نقصان
بھارتی ارب پتی تاجر گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی پر امریکی عدالت میں 265 ملین ڈالر رشوت دینے اور فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے۔ امریکی پراسیکیوٹر کے مطابق بھارتی تاجر نے یہ رشوت ایک بڑا سرکاری منصوبہ حاصل کرنے کے لیے دی جِس سے اُنہیں 2 ارب ڈالر منافع کی توقع تھی۔
گوتم اڈانی کون ہیں؟
گوتم اڈانی معروف کاروباری شخصیت اور بھارتی تاجر ہیں، جِن کا کاروبار نہ صرف بھارت بلکہ پوری دُنیا میں پھیلا ہوا ہے۔گوتم اڈانی کا شُمار دُنیا کے 20 امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ایشیا کے امیر ترین افراد میں گوتم اڈانی کا دوسرا نمبر ہے۔ یہ ایک ملٹی نیشنل کاروباری گروپ “اڈانی گروپ ” کے مالک ہیں جِس میں سولر انرجی کمپنیاں، تھرمل پاور پلانٹس ، سیمنٹ اور اِس طرح کی کئی دیگر کمپنیاں آتی ہیں۔
الزامات کی نوعیت کیا ہے؟
امریکی پراسیکیوٹر کے مطابق ستمبر 2021 میں اڈانی گرین انرجی بانڈز کے ذریعے 750 ملین ڈالرز اکٹھے کیے گئے،جِن میں سے 175 ملین ڈالرز امریکی سرمایہ کاروں سے اکٹھے کیے گئے، لیکن اِس عمل میں بدعنوانی کو چھپایا گیا۔
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے گوتم اور ساگر اڈانی پر امریکی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور مستقل پابندی، مالی جرمانے اور کمپنی کے عہدوں پر پابندی کی درخواست کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے کو امریکہ لے جا کر اُن پر مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔
اڈانی گروپ کا ردِ عمل
اڈانی گروپ اور بھارتی ریگولیٹری اتھارٹیز، نے اِ س معاملے پر فی الحال کسی بھی قسم کا تبصرہ نہیں دیا۔
واضح رہے کہ امریکی عدالت کے اِن اقدامات کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں اڈانی گرین انرجی کے حصے 17 فیصد تک گر گئے ہیں، جبکہ گروپ کی دیگر کمپنیز کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔