بھارت کی مخالفت کے باوجود نیوزی لینڈ نے خالصتان ریفرنڈم کی اجازت دے دی

نیوزی لینڈ میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل
بھارتی احتجاج کے باوجود نیوزی لینڈ کی حکومت نے سکھ کمیونٹی کو خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت دے دی۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ ریفرنڈم کل نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں منعقد ہوگا، جس کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

آکلینڈ میں ریفرنڈم کی تفصیلات
ریفرنڈم کا انعقاد آکلینڈ کے مرکزی علاقے اوٹی اسکوائر پر ہوگا، جہاں مقامی حکومت اور پولیس نے سکھ کمیونٹی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

پہلے کن ممالک میں ریفرنڈم ہو چکے ہیں؟
خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا، اور آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں بھی کیا جا چکا ہے۔

بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات پر اثرات کا خدشہ
ماہرین کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کے باعث بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ نے اس معاملے پر نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ سے بات چیت کی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

سکھ کمیونٹی کا عزم
سکھ کمیونٹی نے خالصتان ریفرنڈم کو اپنی شناخت اور آزادی کے اظہار کا اہم موقع قرار دیا ہے، اور ریفرنڈم میں بڑے پیمانے پر شرکت کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب بھارت اس ریفرنڈم کو اپنی سالمیت کے خلاف ایک چیلنج قرار دے رہا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں