مشرق وسطی میں کشیدگی کے باوجود بھارت کا تجارتی خسارہ کم ہو گیا

بھارت کے تجارتی خسارے میں مارچ کے دوران غیر متوقع کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکہ کو برآمدات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے، حالانکہ ایران جنگ کے باعث عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔

بھارتی وزارت تجارت کے مطابق مارچ میں تجارتی خسارہ کم ہو کر 20.67 ارب ڈالر کی نو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ اس دوران برآمدات بڑھ کر 38.92 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ درآمدات کم ہو کر 59.59 ارب ڈالر رہ گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کو برآمدات میں 17.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 8.02 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی ایک وجہ امریکی عدالت کے فیصلے کے بعد ٹیرف میں کمی بھی بتائی جا رہی ہے، جس سے ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ مصنوعات کی ترسیل میں اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق بھارت کی برآمدات اس وقت دو متضاد عوامل کے زیر اثر ہیں۔ ایک جانب ایران جنگ کے باعث سپلائی میں رکاوٹیں، شپنگ روٹس کی بندش اور لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ میں طلب میں کچھ بہتری آئی ہے۔

خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب تاخیر اور رکاوٹوں نے تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں تقریباً ڈیڑھ ماہ سے صورتحال کشیدہ ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ کو برآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ بھارت کے تجارتی سیکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ مارچ میں اس خطے کو برآمدات میں 3.5 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، جس کا مجموعی برآمدات پر اثر پڑا۔

بھارت، جو دنیا میں تیل کا تیسرا بڑا صارف ہے، اپنی ضروریات کا 80 فیصد سے زائد خام تیل درآمد کرتا ہے، جبکہ ایل پی جی کا تقریباً 60 فیصد حصہ بھی بیرون ملک سے آتا ہے۔ ان درآمدات کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی کا براہ راست اثر بھارتی معیشت پر پڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں