ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے IAEA کے سربراہ کا دورہ ایران

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی ایران پہنچے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر سکیں۔رافیل گروسی کا استقبال تہران ایئرپورٹ پر ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI) کے ترجمان بہروز کمالوندی نے کیا۔ راگیل گروسی کو تہران میں AEOI کے سربراہ محمد اسلامی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، جو 2015 کے جوہری معاہدے کے مذاکرات میں ایران کے مرکزی نمائندے تھے۔

یہ معاہدہ، جسے مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (JCPOA) کہا جاتا ہے، 21 ماہ کے مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی گئی تھی، جس کے بدلے میں اس کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنا سکے — جس کی ایران ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔ تاہم، تین سال بعد، سابق صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس معاہدے سے نکال کر ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔

یورپی طاقتوں کی جانب سے ایران کے خلاف نئی قرارداد کی کوشش

یورپی طاقتیں (E3: فرانس، برطانیہ اور جرمنی) IAEA کے بورڈ پر زور دے رہی ہیں کہ ایران کے ناقص تعاون پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک نئی قرارداد منظور کی جائے۔ سفارتکاروں کے مطابق، یہ قرارداد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش ہے تاکہ اس کے جوہری پروگرام پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکیں، جس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی دی جائے گی۔

قرارداد کے تحت IAEA سے کہا جائے گا کہ وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر ایک “جامع رپورٹ” جاری کرے جس میں ایران کے غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے نشانات کی وضاحت شامل ہو۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اس قرارداد کا محرک نہیں ہے، تاہم وہ اس کی حمایت متوقع ہے، جیسا کہ جون میں ہونے والی آخری قرارداد میں کیا گیا تھا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں