غالب کے مشہور شعر۔۔۔ مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی۔۔۔ ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا۔۔۔کی تعبیر مستعار لیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ تباہی فطرت تعمیر کے اندر ہی رکھتی ہے، سو وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ایران کی تباہی کا پروگرام بنانے والوں نے اس کے اندر سے خرابی کے انتظار سے بے صبرے ہو کر جب اس کو باہر سے تباہ کرنا چاہا تو الٹا اپنا ہی خرمن جلا لیا، اور دنیا کے لیے اس میں خیر یہ پنہاں ہے کہ ان عالمی بد معاشوں اور دہشت گردوں کی تعمیر میں مضمر خرابی کھل کر سامنے آگئی ہے،انھوں نے اپنی بربادی کی نیو رکھ دی ہے، یا کم ازکم اپنے بڑے تیس مار خان اور سپر پاورز ہونے کا بھانڈا بیچ چوراہے اپنے ہاتھوں پھوڑ لیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل علی الاعلان ایرانی ملا رجیم چینج کرنے آئے تھے، یہ رجیم نہ صرف یہ کہ چینج نہیں ہوئی بلکہ ان کی اس حماقت کی وجہ سے اور مضبوط ہوگئی۔ لہذا امریکہ اور اسرائیل کی اس جنگ میں ناکامی پر کوئی دوسری رائے محض ڈھٹائی ہے، جس کا حقیقت سے کچھ لینا دینا نہیں۔ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے پاگل پن میں کامن سینس کی یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ بیرونی دباؤ اور جنگی اقدام اکثر اقوام کو توڑنے کے بجائے متحد ہی کرتا ہے، ایران کے معاملے میں بھی یہی ہونا تھا اور یہی ہوا، اندرونی اختلافات پس منظر میں چلے گئے اور قومی بیانیہ زیادہ طاقتور ہو کر ابھرا۔ سب نے دیکھا کہ ایرانی رجیم نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنے مذہبی و ملائی بیانیے کے ساتھ ساتھ قومی و تہذیبی بیانیے سے بھی بھرپور مدد لی، اسلام سے بھی ہزاروں سال پہلے کی ایرانی تہذیب اور ایرانی تہذیبی ہیروز کے حوالے شامل کرکے جذبۂ قومیت کو بھارا گیا، نتیجتاً بہت سے وہ لوگ جو جنگ سے قبل ایرانی رجیم کے خلاف تھے، اس کے حامی بن گئے، کئی لوگ جو ابھی بھی رجیم کے خلاف ہیں ، جنگ کے دوارن میں اس لیے امریکہ اور اسرائیل کے مخالف اور ایرانی رجیم کے حامی رہے کہ یہ کام ان کے اپنے عوام کا ہے، امریکہ ،اسرائیل یا کسی بھی بیرونی طاقت یا مہم جو کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ایران پرا پنی مرضی کی رجیم مسلط کرے، یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔
یوں ٹرمپ اور نیتن یاہو کو لینے کے دینے پڑ گئے اور اس ان کی طرف سے اس مسلط کردہ ظالمانہ و جارحانہ جنگ کے بڑے شر سے ایرانی قوم کے لیے بالعموم اور ایرانی ملا رجیم کے لیے بالخصو ص بہت بڑی خیر برآمد ہوگئی کہ اب ان کے لیے سیاسی اور معاشی ہر دوسطح پر پہلے سے بہت بہتر پوزیشن کی طرف تیزی سے سفر کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ اب دنیا یہ ماننے پر مجبور ہو رہی ہے کہ ایران صرف ایک علاقائی طاقت نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک اہمیت دنیا پر آشکار ہو چکی ہے کہ عالمی معیشت کے دل کو لہو یہیں سے پمپ ہوتا ہے ، اور یہ لہو اگرچہ پہلے بھی ایران ہی کی بوتل میں تھا، لیکن دنیا کو اس کا مشاہدہ ، اس جنگ اور بہ طور خاص اس کے آخری دنوں سے پہلے نہیں ہوا تھا، اور تو اور امریکہ بھی اس کے بارے میں ادراک کی گہری سطح پر اب پہنچا ہے، اب گویا اس کو ایران کی اہمیت سے متعلق عین الیقین کی منزل حاصل ہو گئی ہے۔
یہ جو معاہدہ ہونے جا رہا ہے، اگر اس کے نتیجے میں امریکہ ایران پر عائد عالمی پابندیاں ختم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے ، تو اس کے اثرات نہایت دور رس ہوں گے۔ ایران، جو پہلے ہی وسیع قدرتی وسائل، اسٹریٹیجک محلِ وقوع اور ایک مضبوط داخلی ڈھانچے کا حامل ہے، تیزی سے معاشی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ توانائی کی عالمی منڈی میں اس کا کردار مزید مستحکم ہوگا، سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے، اور تجارتی روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ وہ عالمی اقتصادی نظام میں ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھرے گا ، اور مستقبل میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہوگا۔
رہا کچھ لبرلز اور سیکولرز کی جانب سے دنیا کو ایرانی ملائیت اور اس کی سخت گیری کا ڈراوا ، جس سے واشنگٹن اور تل ابیب کو کچھ سہارا ملتا تھا، تو دنیا کو نوید ہو کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے محنتوں ہی سے وہ اب بامِ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اس کے خاتمے کا خواب اب ان دونوں پاگلوں اور جنونیوں کی کئی اگلی نسلوں تک کا بھی خواب ہی رہے گا۔ وہ آوازیں جو اندر سے ملاؤں کے خلاف اٹھتی تھیں ، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حماقتوں نے ان کو فی الوقت جیتے جی ماردیا ہے۔ اب وہاں کے شہید ملاؤں کی پرستش کی جائے گی اور ایرانی عوام نسلوں تک ان کی تصویروں اور قبروں کے سہارے ایٹم بموں تک کے سامنے سینے تان کر کھڑے ہونے کو تیار رہیں گے۔