تو کیا ایران یہ جنگ جیت گیا؟
جی ہاں ، جیت گیا ، کوئی شک؟ چند چیزوں پر غور کیجیے
۔1 اس جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز ویپنائز نہیں ہوئی تھی ۔ امریکہ کی حماقت نے اسے ویپنائز کر دیا ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ دنیا کی معاشی شہ رگ ایران کے شکنجے میں ہے ۔ وہ جب چاہے اسے دبوچ لے ۔ا ور وہ جب دبوچ لے تو دنیا اس شہ رگ کو فوجی طاقت سے نہیں چھڑا سکتی۔ یوں سمجھیے ایران کے ہاتھ ایک نیا اسلحہ آ گیا ہے۔ ایٹم بم کو ایک ڈیٹرنس تصور کیا جاتا ہے کہ جس کے پاس بم ہو اس پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ اس جنگ میں آبنائے ہرمز ایران کا ڈیٹرنس بن کر سامنے آیا ہے ، آزمایا بھی گیا اور کامیاب بھی ہو گیا ۔ یہ ثابت ہوا ہے کہ جس کے پاس آبنائے ہر مز ہو اس سے لڑنا آسان نہیں ۔ اس سے جنگ کی بڑی قیمت ہو گی۔ دنیا کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ پہلے یہ صرف کتابی بات تھی۔ اس جنگ نے اسے حقیقت بنا کر دنیا کو دکھا دیا کہ ایران سے لڑنے کا مطلب دنیا بھر کا معاشی ستیا ناس ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ کس کی کامیابی ہے؟
۔2 ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” اس کا سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ ایک تاثر تھا یہ پاگل سا آدمی ہے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس سے ڈرا کر وہ باتیں منوا لیا کرتا تھا۔ ایران کو بھی ڈرانے کی کوشش کی گئی یہاں تک کہ پوری تہذیب مٹانے کی دھمکی دی گئی لیکن ایران کے اعصاب نہیں ٹوٹے۔ آبنائے ہرمز کھولنے کی دھمکی دی گئی تو ایران نے کہا چابی گم ہو گئی ہے۔ تہذیب مٹانے کی دھمکی دی گئی تو ایران نے سکون سے کہہ دیا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے تہذیب ایک رات میں بن یا مٹ سکتی ہے تو وہ احمق ہے۔ پوری جنگ میں ایران کے وزیر خارجہ کا اعتماد اور شائستگی حیران کن تھی۔ دوسری جانب ٹرمپ غصہ میں پھنکارتا اورگالیاں دیتا پایا گیا۔ ایران ” ان نرو” نہیں ہوا ، امریکہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کس کی کامیابی ہے ؟
۔3 ایران نے ایک طویل عرصہ معااشی پابندیاں برداشت کیں اور نہیں ٹوٹا۔ اس جنگ میں اس نے ثابت کیا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت بھی اسے نہیں توڑ سکتی ۔ توڑنا تو دور کی بات ، وہ ا س سے آبنائے ہرمز کا قبضہ نہیں لے سکتے۔ قبضہ لینا تو دور کی بات وہ یہاں سے اپنے جہاز تک نہیں گزار سکتے۔۔۔۔ یہ کس کی کامیابی ہے؟
۔4 ایران نے روایتی جنگ کے مقابل ” اےسمیٹرک وار فئیر ” متعارف کرائی۔ غیر روایتی جنگ کوئی چین آف کمانڈ نہیں کہ وہ ٹوٹ جائے تو سرنڈر ہو جائے۔ ٹکروں میں مزاحمت ، آخر دم تک مزاحمت۔ کمیونی کیشن ختم ہونے کے باوجود مزاحمت ، لیڈر شپ مارے جانے کے باوجود مزاحمت ۔ جنگ کا یہ تصور کامیاب رہا۔ لیڈر شپ مار دی گئی ، فوجی قیادت سے دستوں کے رابطے ختم ہو گئے ، چین آف کمانڈ بکھر گئی لیکن مزاحمت جاری رہی۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ کس کی کامیابی ہے؟
۔5 امریکہ کی بلاشرکت غیرے حاکمیت خطرے میں ہے۔ آبنائے ہرمز پر سلامتی کونسل میں قرارداد روس اور چین نے ویٹو کر دی۔ دو ویٹو پاور والے ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔ یہ کس کی کامیابی ہے؟
۔6 ایران کا مزاحمتی ڈھانچہ موجود ہے۔ لیکن نیٹو کا بندوبست خطرے میں ہے ۔ ۔۔۔ کس کی کامیابی ہے؟
۔7 امریکہ آبنائے ہر مز میں کھڑے کبھی دھمکیاں دیتا رہا کبھی دہائیاں ، نہ چین اس کی مدد کو آیا ، نہ سپین ، نہ برطانیہ ، نہ آسٹریا ۔۔۔ کس کا تاثر خراب ہوا؟ ایران کا یا امریکہ کا؟ یہ کس کی کامیابی ہے؟
۔8 امریکہ کی قوت تو پہلے ہی مسلمہ ہے۔ اب کی بار نیا یہ ہوا کہ ایران نے اپنی قوت ثابت کی اس نے بتایا کہ ایران پر حملے کی قیمت کیا ہو گی؟ اس نے دنیا کی معیشت کو یرغمال بنالیا جس سے ٹرمپ پر دباؤ بڑھنے لگا ۔ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ترنوالہ نہیں کہ عراق اور افغانستان کی طرح اس کی پھینٹی لگا کر دنیا آرام سے بیٹھی رہے گی۔ اس سے کامیابی سے یہ پیغام دیا کہ ایران پر حملے کی قیمت صرف ایران ادا نہیں کرے گا ساری دنیا ادا کرے گا۔۔۔ کس کی کامیابی ہے؟
۔9 شاہ ایران کے صاحبزادے تاؤلے ہوئے بیٹھے تھے کہ ایران کی حکومت ختم ہو گی تو شاہ معظم جا کر اقتدار سنبھال لیں گے۔ رجیم چینج کا قصہ بھی تمام ہوا ۔۔۔ یہ کس کی کامیابی ہے؟
یاد رکھیے جنگ میں کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ کس کے لوگ زیادہ مرے اور کس کی عمارتیں زیادہ تباہ ہوئیں ، دیکھا یہ جاتا ہے کہ جنگ کے نتائج کیا ہیں اور یہ کس کے مستقبل پر کتنا اثر انداز ہوئے ہیں ۔ مغربی مبصرین کہہ رہے ہیں امریکہ نے مس ایڈونچر کیا ، امریکہ نے ایران کو ” جنگجو” بنا دیا ، امریکہ نے ایران کو ڈیٹرنس دے دیا ، امریکہ نے دنیا کی معیشت کا مستقبل ایران کے ہاتھ گروی رکھ دیا، امریکہ ایران میں رجیم چینج نہیں کر سکا ، امریکہ ایران سے اس کا یورینیم نہیں لے سکا ۔ تو کون کامیاب ہوا؟