امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں 5 ہزار سے زائد میرینز، پیراٹروپرز اور خصوصی دستے خطے میں پہنچ چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران نے ایک ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اس گزرگاہ کو عملاً محدود کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازرانی بحال نہ ہوئی تو ایران کے مرکزی تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع اہم جزیروں پر قبضہ کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ جہازرانی کو بحال کیا جا سکے۔ ان جزیروں میں قشم جزیرہ، لارک، ابو موسیٰ اور تنب کے جزائر شامل ہیں، جہاں ایران کی مضبوط فوجی موجودگی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان جزیروں پر کنٹرول حاصل کیے بغیر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایران ان علاقوں میں ڈرونز، اینٹی شپ میزائلز اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے بحری راستوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ان جزیروں تک پہنچنے کے لیے امریکی افواج کو خلیج فارس میں طویل فاصلہ طے کرنا ہوگا، جو ایک خطرناک اقدام ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق اگر امریکی افواج جزیروں پر قبضہ کرتی بھی ہیں تو انہیں وہاں قیام کے دوران ایرانی حملوں، میزائلز اور ڈرونز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے جانی نقصان کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
جزیرہ خارگ ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد مرکز ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے تو اس سے ایران کی معیشت پر بڑا دباؤ پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس جزیرے پر ممکنہ کارروائی بھی خطرناک سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہاں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں آتش گیر تیل ذخیرہ ہے، جو کسی بھی حملے کی صورت میں خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی مکمل بحالی فوری ممکن نہیں ہوگی، کیونکہ اس کے لیے جہاز رانی کمپنیوں اور انشورنس اداروں کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہوگا۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کسی جزیرے پر قبضہ کر کے اسے برقرار رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔