ایران میں گرائے گئے امریکی طیارے کے اہلکار کو کیسے ریسکیو کیا گیا؟

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران میں تباہ ہونے والے اپنے جنگی طیارے کے ایک لاپتہ اہلکار کو ایک پیچیدہ فوجی آپریشن کے بعد بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق ایک جنگی طیارہ ایرانی فائرنگ کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس کے بعد اس میں سوار دونوں اہلکاروں نے خود کو جہاز سے باہر نکال لیا۔

بیان کے مطابق طیارے کا پائلٹ واقعے کے بعد رابطے میں رہا اور تقریباً چھ گھنٹے بعد اسے ریسکیو کر لیا گیا۔تاہم اسلحہ نظام کے نگران افسر لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکی فوج اور مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اےنے ان کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کیا۔

امریکی ادارے نیویارک ٹائمز کے مطابق ابتدائی تلاش کے دوران ڈرونز اور نگرانی کرنے والے طیاروں کے باوجود اہلکار کا کوئی سراغ نہیں ملا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ اہلکار نے ایران کے ایک پہاڑی علاقے میں چھپ کر اپنی بقا کی کوشش جاری رکھی۔

اہلکار نے اپنی جگہ ظاہر کرنے والے سگنل کا محدود استعمال کیا تاکہ ایران کو ان کی موجودگی کا علم نہ ہو۔تقریباً 14 گھنٹے بعد ایک سگنل موصول ہونے پر ان کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔

ادھر ایران نے بھی اہلکار کی تلاش شروع کی اور عوام سے مدد کی اپیل کی۔امریکی حکام کے مطابق خفیہ ادارے نے ایک حکمت عملی کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اہلکار کو زمینی راستے سے نکالا جا رہا ہے تاکہ ایرانی فورسز کو گمراہ کیا جا سکے۔

مغربی میڈیا کے مطابق بعد ازاں امریکی فوج نے ایک بڑا ریسکیو آپریشن کیا جس میں خصوصی دستے بھی شامل تھے۔رات کے وقت کیے گئے اس آپریشن میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اہلکار کو پہاڑی علاقے سے نکالا گیا، جبکہ فضائی مدد بھی فراہم کی گئی۔

اہلکار کو ایک خفیہ ہوائی پٹی پر منتقل کیا گیا جہاں طیاروں کے پہیے ریت میں پھنس جانے کے باعث تاخیر ہوئی۔بعد میں متبادل طیاروں کے ذریعے تمام اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

امریکی فوج نے خراب ہونے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کر دیا تاکہ وہ ایران کے ہاتھ نہ لگیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آپریشن کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اہلکار کو معمولی چوٹیں آئی ہیں تاہم وہ محفوظ ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں