روس، چین اور فرانس نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے فوجی کارروائی کی اجازت سے متعلق ایک مجوزہ قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عرب ممالک نے اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تھی، جس میں عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستے کو کھولنے کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت مانگی گئی تھی۔
تاہم یہ کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ روس، چین اور فرانس نے اس کی مخالفت کی۔ ان تینوں ممالک کو سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کے خلاف ہیں جس میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دی جائے۔
یہ پیش رفت عالمی برادری میں موجود اختلافات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ایک جانب فرانس نے روس اور چین کے ساتھ مل کر اس اقدام کی مخالفت کی، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کر رہے ہیں۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی کے زیرِ اثر نہیں آنا چاہتا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے حال ہی میں ایک فرانسیسی تیل بردار جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایران اُن ممالک کو ترجیح دے رہا ہے جو چینی کرنسی میں ادائیگی کرتے ہیں۔