ایئرپورٹ پر مسافروں کی رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت والا روبوٹ متعارف

کیلیفورنیا کے سان ہوزے منیٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کی رہنمائی کے لیے ایک ہیومنائیڈ مصنوعی ذہانت والا روبوٹ متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کا نام “خوسے” رکھا گیا ہے۔

یہ روبوٹ ٹرمینل بی میں گیٹ 24 کے قریب تعینات ہے، جہاں یہ مسافروں کا استقبال کرتا ہے، ان کے سوالات کے جواب دیتا ہے اور انہیں ایئرپورٹ کے اندر راستہ تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

“خوسے” کو انٹ بوٹ نامی کمپنی نے تیار کیا ہے، جو ایسے روبوٹس بنانے پر کام کر رہی ہے جو انسانی رویوں کو سمجھ سکیں۔ یہ روبوٹ ایک جدید نظام “انٹ انجن” کے ذریعے کام کرتا ہے جو آواز، بصارت اور زبان کو یکجا کر کے حقیقی وقت میں ردعمل دیتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ روبوٹ 50 سے زائد زبانوں میں بات چیت کر سکتا ہے، مسافروں کو راستہ بتانے کے ساتھ ساتھ پروازوں سے متعلق تازہ معلومات بھی فراہم کرتا ہے اور ہجوم والے ماحول میں بھی خود مختار انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تقریباً پانچ فٹ چھ انچ قد اور 152 پاؤنڈ وزن رکھنے والا یہ روبوٹ ایک چارج پر تقریباً دو گھنٹے تک کام کر سکتا ہے اور تنگ جگہوں میں باآسانی حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی تقریبات کے باعث بین الاقوامی مسافروں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

یہ منصوبہ فی الحال چار ماہ کے آزمائشی مرحلے میں ہے، جس کے دوران یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا مسافر اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، کیا اس سے الجھن اور تاخیر میں کمی آتی ہے، اور کیا یہ مصروف ماحول میں مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مستقبل میں ایسے روبوٹس نہ صرف ایئرپورٹس بلکہ ہسپتالوں، ہوٹلوں اور دیگر عوامی مقامات پر بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں