پٹرول: It’s the war stupid

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی توقع تو تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ اضافہ اس قدر شدید ہو گا کہ لوگوں کی چیخیں ہی نکال دے گا۔ درست کہ اس موقع پر زیادہ ریلیف دینا حکومت کے لیے ممکن نہ ہو گا لیکن کیا اس بوجھ کو کچھ کم بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اگر اشرافیہ اور افسر شاہی کے لیے قومی خزانے سے دی گئی اندھا دھند مراعات کا شرمناک سلسلہ ختم نہیں کیا جا سکتا تو کیا عوام کو اتنی سبسڈی بھی نہیں دی جا سکتی کہ جسم اور سانس کا رشتہ برقرار رہے۔

پٹرول بم کی خبر پڑھتے ہی پہلا سوال اب یہ تھا کہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ کچھ ریلیف دینا ممکن تھا بھی یا نہیں ۔ بہت کچھ لکھا جا رہا تھا مگر ایسے میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقت کی بجائے عصبیت کا ابلاغ ہوتا ہے۔ جو ن لیگ کے تھے وہ ا س فیصلے کے ایسے فضائل بیان کر رہے تھے جیسے اتنا کچھ کر کے بھی قوم پر احسان فرمایا گیا ہو اور جو دوسری صف میں تھے ان کے خیال میں ، یہ فیصلہ لوٹ مار کے سوا کچھ نہ تھا۔ پولرائزیشن کےا س ماحول میں آدمی کس کی رائے کا اعتبار کرے۔

پہلا خیال شاہد خاقان عباسی صاحب کا آیا کہ وہ کیا کہتے ہیں ۔ خیال تو ویسے مفتاح اسماعیل صاحب کا بھی آیا لیکن ماضی میں ان کی ایک دو آرا مجھے حقیقت سے دور لگیں ، اس لیے ان کا خیال جھٹک دیا۔ شاہد خاقان عباسی کا معاملہ مختلف تھا۔ وہ بھی ن لیگ چھوڑ چکے اور اس کے ناقدین میں سے ہیں ، رائے بھی نپی تلی دیتے ہیں ، سیاست کے ہیجان کے اسیر بھی نہیں ہیں ، پھر یہ کہ وہ معیشت کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔

میں فورا ٹویٹر ( ایکس) پر گیا کہ دیکھوں اس معاملے میں شاہد خاقان عباسی صاحب نے کوئی موقف دیا ہے یا ان سے فون پر معلوم کرنا پڑے گا۔ اتفاق سے ایکس پر ان کا موقف موجود تھا ۔

شاہد خاقان عباسی لکھتے ہیں: ” کویت عراق جنگ کے دوران بھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت دوگنی ہو گئی تھی، حالانکہ وہ صرف دو ممالک کا تنازع تھا، جبکہ آج کی صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جہاں کئی علاقائی ممالک کے ساتھ بڑی عالمی طاقتیں بھی جنگ میں شامل ہیں۔ ایسے حالات میں 60 ارب روپے کی ہفتہ وار سبسڈی جاری رکھنا ممکن نہیں تھا، خاص طور پر جب یہ سبسڈی امیر اور غریب دونوں کو یکساں مل رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ایک ناگزیر فیصلہ تھا تاکہ معیشت کو مزید دباؤ سے بچایا جا سکے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ قیمت بڑھنے کے باوجود پیٹرول کی کھپت میں کمی نہیں آئی بلکہ ایک سال میں 19 فیصد اضافہ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں بطور قوم بھی اپنے استعمال پر غور کرنا ہوگا۔ یہ مشکل وقت ضرور ہے، مگر صبر، ذمہ داری اور مثبت رویے کے ساتھ ہم انشاءﷲ اس سے نکلیں گے۔”

سچ کہوں تو مجھے عباسی صاحب کے موقف میں ” مثبت رپورٹنگ” کا عنصر کچھ زیادہ ہی محسوس ہوا۔ کچھ سوالات تھے جو اب بھی تشنہ تھے ۔ میں نے ایک دوست کو فون کیا جو سیکرٹری پٹرولیم کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے ۔ میں نے کہا سیاسی معاملات کو ایک طرف رکھ دیجیےا ور میری صرف اس نکتے پر رہنمائی کیجیے کہ جب پاکستان کا پٹرول آبنائے ہرمز میں روکا ہی نہیں گیا اور ہمارے پرچم والے تیل بردار جہاز وہاں سے گزر رہے ہں تو قیمت بڑھانے کا کیا جواز ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم کی قیمتوں کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ جہاز گزر رہے ہیں یا نہیں۔ اس میں کچھ اور عوامل میں ہوتے ہیں، عالمی سطح پر تیل مہنگا ہو گا تو پاکستان میں بھی مہنگا ہوگا ، آبنائے ہرمز میں خطرہ ہو گا تو شپنگ چارجز بڑھیں گے ، انشورنس بڑھے گی تو سب کے لیے بڑھے گی بھلےا س کے جہاز بغیر خطرے کے گزر رہے ہوں یا خطرہ مول لے کر گزر رہے ہوں ، ڈالر کی قیمت بڑھے گی تب بھی پٹرول مہنگا ہو گا۔

سچ کہوں تو اس بات سے بھی میں پوری طرح مطمئن نہیں تھا کیونکہ یہ سوال اب بھی موجود تھا کہ کیا حکومت اپنے ٹیکسز کم نہیں کر سکتی تھی؟ یا کم از کم اتنا تو کر سکتی تھی کہ ٹیکسز مزید نہ بڑھاتی۔

اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کر سکتی تھی ، لیکن دیکھنا پڑے گا کہ کیا حکومت آئی ایم ایف کو انکار کرنے کی پوزیشن میں تھی یا نہیں کیونکہ یہ آئی ایم ایف کا مطالبہ بتایا جا رہا ہے کہ آپ سبسڈی نہیں دیں گے۔ اور ابھی تو یہ خطرہ بھی ہے کہ اس پر جی ایس ٹی وغیرہ لگ جائے اور پٹرول مزید مہنگا ہو جائے۔

صورت حال بہت پریشان کن ہے، اور اس کا کوئی متبادل معاشی ویژن بھی ہمارے سامنے موجود نہیں۔ حکومت نے جو کرنا ہے، ٹھونک بجا کر کر رہی ہے اور بتا چکی ہے کہ اس نے یہی کرنا ہے ۔ ن لیگ کے معاشی ویژن کے ایک ناقد شاہد خاقان عباسی ہیں اور ان کا اپنا معاشی ویژن یہ ہے کہ وہ بھی اس اضافے کو نا گزیر اور درست سمجھ رہے ہیں۔ ایسے میں آدمی کہاں جائے؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ آنے والا وقت بہت کٹھن ہے۔

ہم نے اب تک جنگ دیکھی ہی نہیں ، صرف دور دراز کی جنگوں کے قصے سنے ہیں اور سوشل میڈیا پر تبصرے فرمائے ہیں یا پڑھے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ صرف صبح اٹھ کر دو چار پوسٹیں کھڑکا دینے کا نام ہے۔ ٹرمپ بھی ایسا ہی سمجھتا تھا کہ جنگ صرف دوسروں کی پھینٹی لگانے کا نام ہے۔ مغربی دنیا بھی یہی سمجھتی تھی کہ جنگ صرف ان ممالک کی تباہی کا نام ہے جن پر مسلط کی جائے ۔ ایران نے سب کے چودہ طبق روشن کر دیے ہیں ۔ اس نے سب کو بتا دیا ہے کہ جنگ کیا ہوتی ہے اورا س کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے اور وہ دیکھنے میں کیسی ہوتی ہے۔
جیمز کارول ہوتے تو کہتے :
It’s the war, stupid۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں