محکمہ مال ریاستی نظم کا وہ حساس ترین شعبہ ہے جہاں ایک سادہ اندراج بھی کسی شہری کے حقِ ملکیت کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ زمین صرف مٹی نہیں ہوتی، یہ عزت، شناخت اور بقا کا استعارہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے یہی محکمہ اکثر ایسے سوالات کی زد میں رہتا ہے جہاں قانون کی موجودگی کے باوجود انصاف غائب دکھائی دیتا ہے۔
یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسی نظام میں ایک پٹواری ترقی کرتے ہوئے تحصیلدارتک اور تحصیلدار پھر اسسٹنٹ کمشنر،اسسٹنٹ کمشنر پھر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)، ڈپٹی کمشنر اور بالآخر سیکرٹری کے منصب تک پہنچتا ہے۔ یعنی جو آج پالیسی بنا رہا ہے، وہ کل اسی فیلڈ کا حصہ تھا۔ ایسے میں اگر نچلی سطح پر جعلسازی، بوگس انتقالات، اور ریکارڈ ٹیمپرنگ کے واقعات تسلسل سے سامنے آئیں تو یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر لاعلمی ہے،یہ یا تو کمزور نگرانی ہے یا دانستہ چشم پوشی۔
یہاں اصل سوال اور بھی تلخ ہے: آخر ایک پٹواری کو کتنی بار معطل ہونا چاہیے؟ کتنی بار سروس کٹوتی کا سامنا کرنا چاہیے؟ کتنی بار ڈسمس فرام سروس کے بعد بحال ہونا چاہیے؟ اور کتنے ثابت شدہ مقدمات اس کے خلاف درج ہوں کہ نظام یہ تسلیم کرے کہ اب بہت ہو چکا؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب اکثر انکوائریوں میں واضح لکھا جاتا ہے کہ ایسے اہلکار کو فیلڈ پوسٹنگ نہ دی جائے، تو پھر وہی شخص دوبارہ “سونے کی چڑیا” جیسے سرکلز میں کیوں تعینات کیا جاتا ہے؟
کیا وجہ ہے کہ ایک بدنامِ زمانہ اہلکار، جس کی سروس ہسٹری خود ایک چارج شیٹ بن چکی ہو، دوبارہ انہی کرسیوں پر براجمان نظر آتا ہے جہاں سے وہ عوام کے حقوق کا محافظ نہیں بلکہ تاجر بن بیٹھتا ہے؟ کیا یہ سب محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی مضبوط سرپرستی کھڑی ہے؟ کیا ایک پٹواری کو صرف اس لیے کھلی چھٹی دی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بااثر سیاستدان یا افسر کا “چہیتا” یا “کماؤ پتر” ہے؟
یہ تاثر عام ہےاور خطرناک حد تک مضبوط کہ کچھ عناصر کو غیر اعلانیہ اجازت حاصل ہوتی ہے:
جاؤ پتر، عوام کو جتنا تنگ کرنا ہے کرو، کھاتے بلاک کرو، چاہے خود ساختہ درخواستوں کے ذریعے یا کسی قانونی موشگافی کا سہارا لے کر… ہم آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں، بس یہ دھیان رہے کہ اوپر تک سلسلہ نہ ٹوٹے۔
یہ الفاظ شاید سخت لگیں، مگر زمینی حقیقت اس سے مختلف نہیں۔ جب احتساب کا نظام کمزور ہو جائے اور سرپرستی مضبوط، تو پھر قانون محض کتابوں تک محدود رہ جاتا ہے۔ قانونی طور پر پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 اور اس کے رولز ریکارڈ کی درستگی اور انتقالات کے شفاف اندراج کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہیں۔ اسی طرح PEDA ایکٹ 2006 سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا مکمل طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ مگر جب ان قوانین پر عملدرآمد کی بجائے “پسند و ناپسند” کا عنصر غالب آ جائے تو نتائج وہی نکلتے ہیں جو آج نظر آ رہے ہیں۔
اس کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ ان دانستہ یا نادانستہ غلطیوں کی قیمت عوام اپنی زندگیوں سے چکاتے ہیں۔ ایک غلط انتقال، ایک بوگس فرد یا ایک ٹیمپرڈ ریکارڈ کسی خاندان کو سالہا سال عدالتوں کے چکر لگوانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نسلیں گزر جاتی ہیں، مقدمے ختم نہیں ہوتے، اور انصاف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ محض ایک عمومی تجزیہ نہیں، بلکہ ایک ذاتی تجربہ بھی ہے۔ راقم نے اپنی نانی کی وراثتی جائیداد کے حصول کے لیے تقریباً آٹھ سال اس نظام کے اندر گزارے۔ ایک سادہ سا کیس، جسے قانون کے مطابق چند دنوں میں حل ہونا چاہیے تھا، ایک پٹواری کی غلطی کی وجہ سے ایک پیچیدہ قانونی جنگ بن گیا۔ بوقت انتقال چار بہنوں کا حصہ دو کے نام کر دیا گیا، اور باقاعدہ انتقال درج کرنے کے بجائے براہِ راست عملدرآمد کر دیا گیا۔ بعد ازاں جب درست اندراج ہوا تو تضاد سامنے آیا، مگر اس سادہ حقیقت کو ثابت کرنے میں آٹھ سال لگ گئے کہ ہم بھی جائز وارث ہیں۔
ان آٹھ برسوں میں کبھی میرا بوڑھا باپ تیس کلومیٹر کا سفر طے کر کے قصور عدالت میں پیش ہوتا، کبھی میں اکیلا ان دفتروں کے چکر لگاتا، اور کبھی ہم دونوں باپ بیٹا اس امید پر نکلتے کہ شاید آج انصاف مل جائے۔ لاکھوں روپے اس نظام کی نذر ہوئے، اور ذہنی اذیت الگ۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ اس نظام کی خاموش فائلوں میں دبی ہزاروں داستانوں میں سے ایک ہے۔
یہی وہ ناانصافیاں ہیں جو بعض اوقات تنازعات کو خون خرابے تک لے جاتی ہیں۔ زمین، جو رزق کا ذریعہ ہونی چاہیے، وہی دشمنی اور تباہی کی بنیاد بن جاتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اسی نظام میں کچھ ایماندار افسران موجود ہیں جو اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں۔ راقم کو بھی اسی طویل جدوجہد کے دوران ایک ایسا افسر ملا جس نے اس دلدل سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔ مگر ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: کیا ایک پورا نظام چند اچھے لوگوں کے سہارے چل سکتا ہے؟
وسائل کی کمی، گاڑیوں کے لیے ایندھن کا نہ ہونا، سٹیشنری اور ٹی اے/ڈی اے کی قلت ،اضافی ڈیوٹیاں اور وہ بھی بغیر کسی معقول معاوضے کے ،بروقت پروموشنز کا نہ ہونا یہ سب مسائل اپنی جگہ، مگر یہ کسی بھی صورت بدعنوانی کا جواز نہیں بن سکتے۔ اصل مسئلہ نیت اور نگرانی کا ہے، نہ کہ صرف وسائل کا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس نظام کو محض فائلوں اور نوٹیفکیشنز سے نکال کر حقیقی احتساب کی طرف لایا جائے۔ جب تک ایک ہی کردار بار بار مختلف چہروں کے ساتھ واپس آتا رہے گا، تب تک اصلاح ایک خواب ہی رہے گی۔
آخر میں بات سادہ ہے مگر تلخ: محکمہ مال میں ایک غلط اندراج صرف ایک غلطی نہیں، بلکہ یہ انصاف کے پورے تصور پر ایک دھبہ ہے۔ اور جب دھبے صاف نہ کیے جائیں تو وہ نشان بن جاتے ہیں ایسے نشان جو نسلوں تک دکھائی دیتے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ محکمہ مال اب محض ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا بے لگام اور بے حس نظام بن چکا ہے جہاں قانون صرف کمزور کے لیے اور رعایت صرف طاقتور کے لیے رہ گئی ہے۔ یہاں جعلسازی جرم نہیں، ہنر بن چکی ہے؛ سسپنشن سزا نہیں، وقتی وقفہ ہے؛ اور بحالی احتساب نہیں، سرپرستی کا انعام ہے۔ وہی کردار بار بار نئے لبادے میں واپس آ کر عوام کی زمین، عزت اور زندگیوں سے کھیلتا ہے اور نظام تماشائی بنا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ عام آدمی عدالتوں میں سڑتا، دفاتر میں رُلتا اور اپنی ہی ملکیت کے ثبوت ڈھونڈتا رہ جاتا ہے، جبکہ کرسیوں پر بیٹھے لوگ نااہلی کو پالیسی اور خاموشی کو ڈھال بنا کر اس اجتماعی ظلم کو معمول کا حصہ بنا چکے ہیں۔