مشرقِ وسطیٰ اس وقت جس تغیر سے گزر رہا ہے، وہ محض طاقت کی منتقلی نہیں بلکہ عالمی نظام کی ازسرِ نو تشکیل کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے۔ ایران کی بڑھتی ہوئی علاقائی برتری نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ہم ایک نئے جغرافیائی سیاسی عہد میں داخل ہو چکے ہیں؟بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز مفکر Henry Kissinger نے ایک بار کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا خلا ہمیشہ کسی نہ کسی طاقت کو دعوت دیتا ہے۔ آج یہ خلا بڑی حد تک ایران پُر کرتا نظر آ رہا ہے۔ اسی طرح Zbigniew Brzezinski کے گرینڈ چیس بورڈکے نظریے کے مطابق یوریشیا پر اثر و رسوخ عالمی بالادستی کی کنجی ہے،اور ایران اس شطرنج کے اہم مہروں میں سے ایک بن چکا ہے۔
ایران کی حکمتِ عملی روایتی عسکری برتری پر انحصار کرنے کے بجائے ایک جامع اور مرکب اندازِ قوت پر مبنی ہے، جسے سادہ الفاظ میں سمارٹ پاورکہا جا سکتا ہے۔اس حکمتِ عملی میں صرف فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ نظریاتی اثر و رسوخ، علاقائی گروہوں کے ذریعے بالواسطہ کارروائیاں، اور اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔ ایران نے اپنی سوچ اور بیانیے سے مختلف خطوں میں ہم خیال قوتوں کو اپنے قریب کیا، جبکہ براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھایا۔ اسی طرح آبنائے ہرمز جیسی اہم گزرگاہ پر اس کا اثر اسے عالمی سطح پر اہمیت کا حامل بناتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی کم وسائل کے استعمال کے باوجود بڑے نتائج حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، جس کے باعث ایران نے بغیر براہِ راست تصادم کے بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
عالمی توانائی کی سیاست میں ایران کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز، جسے عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے، پر ایران کے اثر و رسوخ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تیل کے تقریباً پانچویں حصہ کی سپلائی ایران کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے ذریعے ایران،چین، بھارت اور یورپ جیسے بڑے صارف ممالک پر بالواسطہ دباؤ ڈال سکتا ہے اور عالمی مالیاتی نظام، خاص طور پرپیٹرو ڈالر سسٹم، کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ماہرین کے مطابق اگر یہ گزرگاہ اسی طرح بند رہے تو آئندہ چند ہفتوں کے اندر عالمی معیشت کا بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا، جس کے اثرات ہر ملک کی اقتصادی سلامتی پر پڑیں گے۔ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اسرائیل کے لیے ایک سنگین وجودی چیلنج بن رہی ہے۔ اسرائیل نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی عموماً deterrenceیعنی کسی بھی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی پر مبنی تھی کو جب سے ایران کے معاملے میں بدل کر حملہ کیاہے،تب سے ایران کیRing of Fire Strategyاور اس کی میزائل و ڈرون صلاحیتیں اس کے توازن کو غیر مستحکم کر رہی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روایتی انداز کی کشیدگی، جو سرد جنگ کی طرح محدود رہتی تھی، اب براہِ راست تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو خطے میں بڑے پیمانے کی جنگ شروع ہو جائے گی، جس کے اثرات صرف اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ سمیت اقوام عالم میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔
ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت دراصل عالمی سیاست کے بڑے کھیل کا حصہ ہے، جہاں امریکہ، چین اور روس ایک نیا توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ روایتی طور پر دنیا کا غالب ملک یا hegemon سمجھا جاتا ہے، جو اپنی عسکری اور اقتصادی طاقت کے ذریعے عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے، جو اپنی تجارتی اور سرمایہ کاری کی قوت سے خطے میں اثر انداز ہو رہا ہے، اور ایران کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی معاہدے بھی کر چکا ہے۔ روس، جو ایک عسکری اور جغرافیائی challenger یعنی مقابل طاقت ہے، شام میں ایران کے ساتھ اتحادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تینوں قوتیں، اپنے اپنے مفادات اور حکمت عملی کے تحت، ایک ایسے اتحاد یا بلاک کی بنیاد رکھ سکتی ہیں.
جو مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے خلاف کام کرے، یعنی ایک اینٹی ویسٹرن بلاک قائم ہو سکتا ہے۔ اس تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایران کی اجارہ داری صرف علاقائی طاقت نہیں بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے نئے توازن کی علامت ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یوریشیا کے وسیع خطے کی سیاست کو متاثر کر سکتی ہے۔ایران کی بالادستی کو عموماً صرف شیعہ، سنی فرقہ وارانہ زاویے سے دیکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہے۔ دراصل ایران کی حکمتِ عملی صرف مذہبی غلبے پر نہیں بلکہ طاقت کے پھیلاؤ اور اسٹریٹجک گہرائی کے اصولوں پر مبنی ہے، یعنی ایران اپنے اثر و رسوخ کو جغرافیائی اور سیاسی سطح پر مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، اگر اس طاقت کو صرف مذہبی رنگ دیا جائے یا فرقہ وارانہ سیاست کے تحت استعمال کیا جائے تو اس کے منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں.
جیسے داخلی انتشار، عدم استحکام، یا خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہونا۔ عراق اور شام میں گزشتہ برسوں کے تجربات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فرقہ وارانہ زاویہ اختیار کرنے سے ریاستی ڈھانچے کمزور ہو جاتے ہیں اور سماجی انتشار شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے ایران کی حکمتِ عملی کو تجزیاتی انداز میں دیکھنا ضروری ہے تاکہ فرقہ وارانہ تشریح کے بجائے اس کے اسٹریٹجک اور جغرافیائی اثرات کو سمجھا جا سکے۔دوسری صورت میں یہ گمان بھی غالب ہے کہ امریکہ و اسرائیل خطے کو اپنی ہاری ہوئی جنگ میں جھونکنے کے لئے فرقہ وارانہ فسادات کو اپنی پراکسیز کے ذریعے جنم دینے کی کوشش کریں۔پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک اہم اور نازک کردار ادا کرنے والا ملک ہے، جسے بین الاقوامی تعلقات میں ایک توازن برقرار رکھنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک حساس مقام پر رکھتے ہیں۔
ایران کی سرحد اور توانائی کے وسائل، ساتھ ہی خطے میں اس کا اثر و رسوخ، پاکستان کے لیے ایک ضروری تعلق ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات، ترسیلاتِ زر اور سفارتی حمایت بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے نازک اور متضاد مفادات کے درمیان پاکستان کے لیے بہترین حکمتِ عملی وہی ہے جسے بین الاقوامی تعلقات میں اسٹریٹجک غیرجانبداری کے ساتھ منتخب شدہ شمولیت کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کسی ایک بلاک یا طاقت کے مکمل اثر میں نہ آئے، بلکہ ہر موقع پر اپنے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط اور متوازن فیصلے کرے۔ اس طرح پاکستان نہ صرف داخلی استحکام برقرار رکھ سکتا ہے بلکہ خطے میں بھی اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ قائم رکھ سکتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران ایکResponsible Regional Powerبن سکتا ہے؟یہ ایک ایسا اہم سوال ہے جس کا جواب خطے کے آنے والیمستقبل اور عالمی سیاست کے ڈھانچے کو شدت سے متاثر کرے گا۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا ایران ایک ذمہ دار علاقائی طاقت بن کر اپنے اثر و رسوخ کو استحکام اور امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے گا، یا وہ ایک تجدیدی ریاست کی طرح عالمی نظام اور موجودہ طاقت کے توازن کو چیلنج کرتا رہے گا۔ اگر ایران ذمہ داری کے ساتھ اپنے سیاسی، عسکری اور اقتصادی اثرات کو بروئے کار لائے تو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور خطے کی معیشت و سلامتی میں بہتری آ سکتی ہے۔
تاہم، اگر وہ اپنی بالادستی کو صرف اپنے مفادات کے لیے یا طاقت کے مظاہرے کے طور پر استعمال کرے تو یہ ایک نئے عدم استحکام اور کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی فیصلہ آنے والے عشرے کی سیاست اور عالمی تعلقات کی سمت کا تعین کرے گا، اور اس کا اثر نہ صرف ایران کے پڑوسی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کے حکمتِ عملی کے فیصلوں پر بھی پڑے گا۔ایران کی ممکنہ اجارہ داری نہ صرف ایک علاقائی تبدیلی ہے بلکہ عالمی نظام میں تین بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ پہلی تبدیلی مشرقِ وسطیٰ میں نئی تقسیم کا آغاز ہے، جہاں طاقت کے نئے مراکز ابھریں گے اور پرانی طاقتیں اپنے اثر و رسوخ کے لیے نئے راستے تلاش کریں گی۔
دوسری بڑی تبدیلی امریکی اثر و رسوخ میں کمی ہے، جو روایتی عالمی نظم کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ تیسری اہم تبدیلی چین، روس،ایران بلاک کے ابھار کی شکل میں سامنے آئے گی، جو مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے خلاف ایک مضبوط متبادل پیش کر سکتا ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ طاقت کا ہر نیا توازن اپنے ساتھ عدم استحکام اور غیر متوقع نتائج بھی لاتا ہے، جو کسی بھی خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ایران کی بالادستی کو صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ عالمی کھیل اور سیاسی امتحان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس منظرنامے کی تہہ میں چھپی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف سرحدوں کی جنگ نہیں، بلکہ بیانیوں، مفادات اور عالمی اقتدار کی نئی بساط ہے، جہاں ہر چال تاریخ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔