ابراہام اکارڈذ: تاریخی موڑ یا خطرناک سودا

آج سے نصف صدی قبل فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل نامی ایک جابر ریاست معرض الوجود میں آئی۔ جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے یہودیوں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کیا اور بہت ہی کم عرصے میں یہودیوں نے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کی مدد سے فلسطینیوں کی زمین پر جبراً قبضہ کر کے اپنی نئی (اسرائیل نامی) ریاست کے بقاء اور استحکام کو دوام بخشا، یہاں تک کہ کئی یورپی ممالک نے اسرائیل کو بطور ریاست کے تسلیم کیا۔

شروع میں امریکہ اور دیگر یورپی ممالک نے عرب اور دیگر مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے “ابراہام اکارڈز ” (اس معاہدے کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی شخصیت کے ساتھ عقیدت ، احترام اور محبت کے سائے میں یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا بٹھا کر اپنے مظالم اور بُرے کرتوت کو بھلا کر کے اسرائیل کی ریاستی حیثیت کو قبول کیا جا سکے) کا اظہار کیا لیکن اسے باقاعدہ عملی شکل 13 اگست 2020ء ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ، بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف راشد اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید کے درمیان معاہدہ کرایا ۔

ابراہام اکارڈز کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ : “اس معاہدے کا مقصد صرف اور صرف مشرق وسطی میں امن کا قیام اور عرب ممالک کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے ہے کیوں کہ اس معاہدے ابراہام اکارڈز کی نسبت ایک ایسی ہستی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے، جس سے تینوں عقائد” مسلمان، عیسائی اور یہودی” کے ماننے والوں میں اتحاد واتفاق کی نمائندگی کرنے والی شخصیت مانی جاتی ہے۔ امریکی صدر نے اپنے حالیہ مشرق وسطیٰ کے دورے میں جہاں عرب ممالک کے ساتھ تجارت اور معیشت کے حوالے سے معاہدات کیے اس کے ساتھ ساتھ ابراہام اکارڈز کو عملی شکل دیتے ہوئے دو خواہش کا اظہار کیا:

اگر سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کیااور ابراہام کارڈز میں شامل ہو گیا ؛ تو یہ میرے لیے باعث مسرت اور عزت افزائی ہوگی ۔

یاد رکھیں! ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب ممالک کو ابراہام اکارڈز میں شامل کرنے پردرج ذیل سہولیات کا جھانسہ دیا:
(1) متحدہ عرب امارات کو جدید عسکری 35-F طیاروں کی اجازت
(2) سوڈان کو دہشتگردی کی فہرست سے نکالنا
(3) مراکش کے لیے مغربی صحرا پر امریکی حمایت کا وثوق ،
اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی کا بھی یقین دلایا۔

لیکن اگر اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ معاہدہ اسلامی تعلیمات اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے حیات طیبہ کے صریح مخالف ہے؛ کیوں کہ یہ پیش کشیں آپ علیہ السلام کو بھی کئی بار ہوئی تھی لیکن محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو مسترد فرمایا، اللّہ تعالی کا فرمان مبارک ہے “تھوڑی سی آپ اپنے عقیدے میں نرمی پیدا کر لیں اور تھوڑی سی نرمی ہم پیدا کر لیں گے ” [سورۃ القلم 68 ] ۔

جناب ابو طالب کے انتقال سے قبل سرداران قریش نے آپ علیہ السلام کو بھی درج ذیل پیش کشیں کی :
1: آپ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہیں ، ہم آپ کے خدا کو کچھ نہیں کہیں گے۔
2: آپ اپنے رب کی عبادت حرم میں کریں اور ہمیں اپنے “خداؤں” کی عبادت بت خانوں میں کرنے دیں ۔
کبھی ہم آپ کے پاس آجایا کریں اور کبھی آپ ہمارے پاس تشریف لایا کریں ۔ اس کے علاؤہ یہاں تک کہا:
آپ! ہمیں بتائیں کتنے پیسے چاہیے ہم اکٹھے کر دیتے ہیں۔
بتائیں ! عرب کی کونسی لڑکی سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟

ہم کرادیں گے ۔

جناب مآب ! فرمائش کریں ہم آپ کو اپنے علاقے کا سردار بنا دیں گے۔

لیکن آپ علیہ السلام نے پیش کردہ تمام تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے فرمانے لگے: “کہ اگر میرے دائیں ہاتھ پہ سورج اور بائیں ہاتھ پہ چاند رکھ دو تب بھی میں اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں۔

اور یہی پیش کشیں مسیلمہ کذاب اور عامر بن طفیل نے بھی کی: کہ “آپ ! شہری نبی اور ہم میں سے( ہر ایک) دیہاتی نبی ہوگا یا آپ ! اپنے بعد ہم میں سے (ہر ایک کو) اپنا خلیفہ نامزد کر دیں ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

ابراہیمی معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب فرماتے ہیں: ” کہ ہاں یہ بات قابل غور ہے: کہ ابراہام اکارڈز کی بات بظاہر عرب ممالک کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے کی جاتی ہیں، لیکن اس کے پیچھے دیگر مقاصد پوشیدہ ہیں: ایک لمبے عرصے سے استعماری قوتوں کی طرف سے عالمی سطح پر یہ بات کی جا رہی ہے ” کہ مذاہب کو آپس میں ہم آہنگی بلکہ اتحادِ مذاہب کے عنوان سے باہمی افہام و تفہیم یا اس سے آگے ” کچھ لو کچھ دو ” (جیسے کہ مشرکین مکہ کے سرداروں نے آپ علیہ السلام کو کہا تھا) کی کوئی صورت نکالنی چاہیے ۔

ِان امور کو سامنے رکھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں، کہ چوں کہ مذاہب کو معاشرتی کردار اور سیاسی و تہذیبی ماحول سے الگ کر کے صرف عقائد اور اخلاقیات کے دائرے میں محدود رکھنے کا فلسفہ اور ضابطہ عالمی قوتوں نے آپس میں طے کر رکھا ہے۔

موصوف اپنے ذاتی مشاہدے کا ذکر کرتے ہوئے فرمارہے ہے” کہ ایک دفعہ امریکہ کے سفر میں تھے شکاگو ( امریکہ کے ریاست الینوائے (Illinois ) میں واقع ایک بڑا شہر ہے) میں مرزا بہار اللّٰہ شیرازی کے پیروکار ” بہائیوں” کے مرکز میں جانا ہوا ” یہ گروہ بہاءاللّہ شیرازی بہائی [ المتوفی 1892] کی طرف منسوب ہے اور مرکز ” عکہ” اسرائیل ہی میں مدفون ہے ۔

جن کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں موجود تمام مذاہب برحق ہیں اور بہائیت ان سب کی جامع ہے ، اس کے اظہار کے لیے انہوں نے شکاگو کے اس مرکز کے بڑے مرکزی حال میں چھ مذاہب کی عبادت گاہوں کا الگ الگ ماحول بنا رکھا ہے، ایک کونے میں مسجد ، دوسرے میں چرچ ، تیسرے میں مندر اور چوتھے میں یہودیوں کا سینی گاہ اور ہال کے بالکل وسط میں گوردواہ اور بدھوں کی عبادت گاہ ہے ، ہر کوئی اپنے مذہب کے طرز پر آسانی سے عبادت کر سکتا ہے ۔

ایک صاحب نے مجھ سے کہا: “کہ جناب ! ایک چھت کے نیچے مسجد ، مندر ، چرچ اور سینی گاہ دیکھ کر کیسے لگا ؟

میں نے کہا: اگرچہ آپ نے سب کو چھت کے نیچے جمع کیا ہے، لیکن ایک خدا اور تینوں خداؤں کو کیسے جمع کیا جا سکتا ہے؟ آگے موصوف فرماتے ہیں: “کہ ابو ظبی میں (خاندانِ ابراہیم کے لئے

گھر کا بنانا ) اور امریکی صدر کا سعودی عرب سے کہنا: کہ اس مرکز کے مسجد کی امامت تم سنبھالو! یہ سب ابراہیمی معاہدے کے پیچھے کار فرما ہیں۔

موصوف فرماتے ہیں: یہ جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے کہ سب مذاہب سچے ہیں ایک اللّہ کی بات بھی سچی ہے اور تین خداؤں کی بات بھی سچی ہیں ۔

نہیں بھائی! یہ سب دھوکہ اور فراڈ ہیں اور بہت بڑے فتنے کا آغاز ہے جو پوری دنیا میں پھیلے گا اور اسے پھیلانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ خود جا کر جگہ جگہ دعوت دے رہے ہیں کہ ابراہیمی معاہدے(ابراہام اکارڈز)میں شریک ہو جاؤ۔”

یہاں یہ بات قابل غور ہے! جن ممالک نے ابراہام کارڈز میں شمولیت کی اس کا سب سے بڑا نقصان موجودہ فلسطین، ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جاری جنگ میں نظر آرہا ہے کہ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ مسلسل انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔

اور دوسری طرف اکثر اسلامی ممالک خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوئے ہیں !

اس کے علاؤہ اسرائیل کو اس معاہدے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اسرائیل کی سفارتی تعلقات میں بہتری آئی اور عرب ممالک میں ان کو خاصی مقبولت بھی ملی۔

آج بھی اگر عرب ممالک نے اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا تو یہ” ابراہام اکارڈز معاہدہ ” گریٹر اسرائیل کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس کا مقصد : اسلامی ممالک خصوصاً عرب پر قبضہ کر نے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو بھی اپنے قبضے میں لینا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری بنتی ہے: کہ فلسطینی عوام کے حق میں ہر محاذ پر آواز بلند کریں، مسلم ممالک اور عالمی اداروں پر زور دےکہ ابراہام اکارڈز معاہدے کو مسترد کریں اور فلسطینی ریاست کی مکمل حمایت کریں۔

آج اگر ہم نے اس معاہدے کی ملکی اور عالمی سطح پر مخالفت نہیں کی؛ تو آنے والے وقت میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا ہوگا ۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں